قرآن کی سورہ الفجر میں بتایا گیا ہے کہ جب کسی انسان کو کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس کو اکرام کے معنی میں لے لیتا ہے۔وہ اپنے آپ کو ایک باعزت انسان سمجھنے لگتا ہے (89:15) ۔ اس احساس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر فخر اور بڑائی اور سرکشی کامزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ اُس سب سے زیادہ قابلِ قدر چیز کو کھو دیتا ہے جس کو تواضع (modesty) کہا جاتا ہے۔
کسی نعمت کو پاکر اس قسم کا غیر مطلوب ذہن کیوں بنتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آدمی اس نعمت کو مستقل (permanent) سمجھ لیتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ نعمت جو مجھ کو ملی ہے، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔اِس دنیا میں انسان کو مختلف قسم کی نعمتیں دی جاتی ہیں۔ مثلاً صحت، جوانی، دولت، اقتدار، عزت وغیرہ۔ یہ تمام نعمتیں ہر شخص کے لیے صرف وقتی ہیں۔ اگر آدمی اِن نعمتوں کو صرف وقتی سمجھے تو کبھی اس کے مزاج میں بگاڑ نہ آئے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب بھی اس کو کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس کو شعوری یا غیر شعوری طورپر ابدی سمجھ لیتا ہے۔ یہی بگاڑ کی اصل جڑ ہے۔
نعمت کو وقتی سمجھنا، اِس معاملے میں ایک چیک (check) کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب آدمی ایک نعمت کو وقتی سمجھے تو وہ اِس اندیشے میں مبتلا رہے گا کہ کچھ نہیں معلوم کہ کب اس سے یہ نعمت چھن جائے۔ زوالِ نعمت کا یہ احساس آدمی کے اندر فخر اور گھمنڈ کا مزاج پیدا ہونے نہیں دیتا۔ زوالِ نعمت کا احساس اس کو ہمیشہ کٹ ٹو سائز (cut to size) بنائے رہتا ہے۔ اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ آج کے لیے اللہ کا شکر ادا کرتاہے اور کل کے لیے وہ خدا سے عافیت کا طلب گار بنا رہتا ہے۔ اِس کے برعکس، جس آدمی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے کہ اس کو جو نعمت ملی ہے، وہ اس کو ہمیشہ حاصل رہے گی، اس کا یہ احساس اس کے اندر اکڑ کا مزاج پیدا کردے گا۔ وہ اپنے آپ کو مصنوعی طورپر بڑا سمجھنے لگے گا۔ اس کا یہ مزاج صرف اُس وقت ختم ہوگا جب کہ اس کو ملی ہوئی نعمت اس سے چھن جائے اور اس کے پاس اکڑ کے لیے کچھ بھی باقی نہ رہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔