Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2020
Al-Risala December 2020

قرآن میں تدبر

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ ص میں نزولِ قرآن کا مقصد بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ: یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں (38: 29)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تدبر سے کیا مراد ہے۔ تدبر کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے آپ اس کو دھیان کے ساتھ پڑھیں اور اس کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے اس کی تلاوت کریں۔ یہ طریقہ بھی بلاشبہہ مفیدہے، لیکن قرآن کے اعلیٰ معانی تک رسائی کے لیے یہ طریقہ کافی نہیں۔

قرآن میں تدبر کے بنیادی طورپر دو پہلو ہیں— غور وفکر، اور دعا۔ غوروفکر کیا ہے، اس کو میں نے ایک واقعہ سے سمجھا۔ ایک بار میری ملاقات ایک مسلم ادیب سے ہوئی۔ اُن کے ساتھ مجھے کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں غالب کا عاشق ہوں‘‘۔ میںنے پایا کہ وہ غالب کے اشعار کے نہایت گہرے معانی بتاتے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ غالب کے دیوان کو صرف پڑھتے نہیں، بلکہ وہ اسی میں جیتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، ’’غالب کے اشعار ہر وقت میرے ذہن میں گھومتے رہتے ہیں‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی تدبر ہے۔ تدبر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ تلاوت کے وقت قرآن کے معانی پر دھیان دیتے ہوئے اس کی تلاوت کریں۔ تدبر یہ ہے کہ قرآن آپ کے دماغ پر چھایا ہوا ہو۔ قرآن کی آیتیں ہر وقت آپ کے ذہن میں گھومتی رہیں۔ آپ قرآن کی آیتوں کو لے کر سوئیں اور قرآن کی آیتوں کے ساتھ جاگیں۔ قرآن سے اِس طرح کے فکری تعلق پیدا ہوجانے کا نام تدبر ہے۔ تدبر کی دوسری لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی برابر اللہ سے دعا کرتا رہے ۔ دعا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ’’رب زدنی علماً‘‘ جیسے الفاظ اپنی زبان سے دہراتے رہیں۔ دعا کا آغاز اپنے عجز کی دریافت سے ہوتا ہے۔ جس آدمی نے دریافت کے درجے میں اپنے عجز کو نہیں جانا،وہ گویا کہ اللہ سے دعا کرنے کا اہل بھی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content