Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala December 2019
Al-Risala December 2019

اسلوبِ کلام

Urdu · 3 min

شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے۔ تخیل میں کوئی خارجی چیز آدمی کی سوچ کی حد بندی کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ اسی لیے شاعر خیالی پرواز میں جو چاہتا ہے کہتا چلاجاتا ہے (أَلَمْ تَرَ أَنَّہُمْ فِی کُلِّ وَادٍ یَہِیمُونَ)الشعراء، 26:226۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے برعکس سائنس کی بنیاد فطرت پر ہے۔ فطرت (nature) ایک متعین حقیقت کا نام ہے۔ فطرت کی دنیا میں تمام واقعات انتہائی معلوم اور متعین اصولوں کی بنیاد پر ظہور میں آتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس داں کی زبان شاعر کی زبان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ شاعر کو لفظوں کے انتخاب میںاحتیاط کی ضرورت نہیں۔ اس کی فکری اڑان اس سے کچھ بھی کہلوا سکتی ہے۔ مگر سائنس داں انتہائی محتاط زبان استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ وہ سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتاہے کہ اس کی زبان میں فنی صحت اور ریاضیاتی قطعیت موجود ہو۔ جدید سائنس کا ظہور یورپ میں ہوا، اور وہیں اس کی ترقی ہوئی۔ پچھلے کئی سو سال کا زمانہ ایساہے جب کہ مغربی دنیا میں سائنس کو سب سے زیادہ غلبہ حاصل رہاہے۔ مغرب کی جدید تہذیب مکمل طورپر سائنس کے زیر اثر بنی ہے۔ اسی کے اثر سے مغرب کی زبانوں میں محتاط اسلوب اور حقیقت نگاری کا انداز پیدا ہوگیا ہے۔

سائنس داں جس شعبۂ علم میں کام کرتاہے، اس کے عین تقاضے کے طورپر وہ ایسا کرتاہے کہ اپنے خیالات کو محتاط زبان (guarded language) میں ظاہر کرتا ہے۔ جب مغربی انسان کے نزدیک سائنس کی اہمیت بڑھی، تو اسی کے ساتھ قدرتی طورپر یہ ہوا کہ زبان میں وہی طرز پسند کیا جانے لگا جو سائنس دانوں کا طرز تھا۔ اس طرح وہ زبان وجود میں آئی جس کو ہم نے محتاط زبان کا نام دیا ہے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ ریمزے میکڈونلڈ (1866-1937)ایک برطانی لیڈر تھے، جو بعد کو وہاں کے وزیر اعظم بنے ۔ان کو عوامی تقریروں کا خاص ملکہ تھا،جس میں معنی کم اورالفاظ زیادہ ہوتےہیں۔ ان کا تعلق انگلینڈ کی لیبرپارٹی سے تھا، جو سرونسٹن چرچل کی حریف تھی۔ چنانچہ لارڈ ونسٹن چرچل نے ایک بار ریمزے میکڈونلڈ پر طنز کرتے ہوئے کہا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He is a man with the gift of compressing the largest amount of words into the smallest amount of thoughts.

یعنی وہ ایسی خصوصیت کے انسان ہیں، جو زیادہ سے زیادہ الفاظ میں کم سے کم معانی کا استعمال کرتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content