Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala December 2019
Al-Risala December 2019

رسول اللہ کی سنت

Urdu · 3 min

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں مختلف باتوں کے علاوہ امت مسلمہ کو یہ رہنمائی بھی دی تھی یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی قَدْ تَرَکْتُ فِیکُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا کِتَابَ اللَّہِ وَسُنَّةَ نَبِیِّہِ(مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 318)۔ یعنی اے لوگو، میں نےتمھارے درمیان چھوڑا ہے، جس کو تم پکڑے رہوگے، تو تم ہرگز گمراہ نہ بنوگے، کبھی بھی— یہ اللہ کی کتاب، اور اس کی نبی کی سنت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ صرف ایک حدیث نہیں ہے، بلکہ یہ رسول اللہ کی ایک قابلِ اعادہ (repeatable) سنت کا بیان ہے۔ چنانچہ رسول اللہ کے بعد اس سنت پرعمل جاری ہوگیا۔ رسول اللہ کے بعد امت پوری طرح اس سنت کے مطابق سرگرمِ عمل ہوگئی۔ سیرت لکھی گئی، مسجد بنے، مدرسے بنے، وغیرہ۔ یہاں تک کہ امتِ محمدی ایک زندہ امت بن گئی۔

رسول اللہ نے ایک قائم شدہ امت چھوڑی ہے، اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ تسلسل کے ساتھ قیامت تک جاری رہے ۔امت رسول اللہ کی مستند نمائندہ بن کر اس کے مشن کو لے کر قیامت تک چلتی رہے ۔ رسول اللہ کے مشن کو لے کر چلنے کا مطلب کیاہے۔ یہ ہے دعوت الی اللہ کے مشن کو قیامت تک جاری رکھنا۔ امت محمدی کی حیثیت داعی گروہ کی ہے، اور دوسری قوموں کی حیثیت مدعو اقوام کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان تعلق داعی مدعو کا تعلق ہے، حریف اور رقیب کا تعلق نہیں۔

یہ تعلق عملاً ایک دوسرے کے درمیان خیرخواہی کا تعلق ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ داعی مدعو کے تعلق کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے۔ اس کو کبھی حریف اور رقیب کا تعلق نہ بننے دیا جائے۔ امت کو ایک طرف زندہ حالت میں قائم رکھنا ہے، اور دوسری طرف برابر اس تعلق کو اپڈیٹ (update) کرتے رہنا ہے، یعنی بدلے ہوئے حالات کے مطابق، اس کی افادیت کو زندہ رکھنا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content