Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2018
Al-Risala December 2018

زندہ قوم

Urdu · 2 min read

جب اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کی وفات (86ھ)ہوئی، تو اس کے لڑکے ہشام نے یہ شعر پڑھا:

فما کان قیس ہلکہ ہلک واحد ولکنہ بنیان قوم تہدما

قیس کی وفات ایک شخص کی وفات نہیں تھی، بلکہ اس کی وفات سے ایک پوری قوم کی بنیاد ہل گئی۔یہ سن کر الولید بن عبدالملک اموی نے کہا، چپ ہو جاؤ، کیوں کہ تم شیطان کی زبان سے بول رہے ہو (فإنک تتکلم بلسان شیطان)۔ تم نے یہ کیوں نہیں کہا جو اوس بن حجر نےکہا تھا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

إذا مقرم منا ذرا حد نابہ تخمط منا ناب آخر مقرم

جب ہم میں سے ایک سردار ہلاک ہوجاتا ہے، تواس کی جگہ دوسرا سردار آجاتا ہے۔ (الکامل فی التاریخ، بیروت، 1997، 3/532)۔ اسی بات کو ایک اور شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

إذا مات منا سید قام بعدہ لہ خلف یکفی السیادة بارع

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلام میں افراد کے لیےبڑے بڑے القاب کا طریقہ نہیں ہے۔ مثلاً آپ اگر ایک شخص کو قائد اکبر کا خطاب دے دیں تو شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنے گا کہ قائد اکبر تو وہی ایک آدمی تھا، اس کے مرنے کے بعد جو لوگ ہیں، سب قائد اصغر ہیں۔ اسی طرح آپ اپنے ایک شخص کو مفکرِ اعظم کا ٹائٹل دے دیں، تو شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنے گا کہ مفکر اعظم تو ایک ہی تھا، اس کے بعد جو لوگ ہیں، وہ سب مفکر اصغر ہیں۔

اسلام میں اخلاقی احترام ہے، اسلام میں شخصی عظمت کا تصور نہیں ۔ اسلام میں ایک دوسرے کی خیرخواہی کا تصور ہے، لیکن یہ تصور اسلام میں نہیں ہےکہ کسی ایک شخص کو اکبر اور اعظم جیسا ٹائٹل دیا جائے ۔ کیوں کہ اس سے شخصیت پرستی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content