Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2018
Al-Risala December 2018

تنقید کا طریقہ

Urdu · 2 min read

تنقید اگر ثابت شدہ مثال کے ساتھ ہو، تو وہ علمی تنقید ہے۔ اس کے برعکس، اگر تنقید ثابت شدہ مثال کے بغیر ہو، تو وہ ایک الزام (allegation) ہے۔ علمی تنقید ایک جائز فعل ہے۔ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ کسی شخص کے اوپر ایک با اصول تنقید کرے۔ لیکن ثابت شدہ مثال کے بغیر کسی کے اوپر تنقید کرنا، تنقیص ہے، جو کہ ایک ناقابلِ قبول فعل ہے۔ اس قسم کی تنقید کا فائدہ نہ ناقد کو ملتا ہے، اور نہ زیرِ تنقید شخص کو۔

جائز تنقید ایک صحت مند علمی سرگرمی ہے۔ صحت مند تنقید وہ ہے، جو ثابت شدہ مثال کی بنیاد پر کی گئی ہو۔ ایسی تنقید ہر اعتبار سے مفید ہے۔ اس کے برعکس، غیر صحت مند تنقید جس میں کسی ثابت شدہ مثال کا حوالہ موجو دنہ ہو، وہ ایک علمی فساد ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں شخص کا کوئی کنٹری بیوشن علم کی دنیا میں نہیں ہے۔ تو یہ تنقید صرف اس وقت درست قرار پائے گی، جب کہ اس میں ثابت شدہ مثال کا حوالہ دیا گیا ہو۔ ثابت شدہ مثال کے بغیر کی ہوئی تنقید بے بنیاد الزام (false allegation)کے سوا او ر کچھ نہیں۔ ایسی تنقید مفسدانہ علمی سرگرمی کے برابر ہے۔ لیکن اگر اس میں ثابت شدہ مثال دی گئی ہو، تو بلاشبہ وہ ایک صحت مندعلمی سرگرمی ہے، اور صحت مند علمی سرگرمی نہایت ضروری ہے۔ صحت مند علمی سرگرمی لوگوں کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچاتی ہے۔

تنقید کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ دعوی کے مطابق، ثابت شدہ مثال دے کر اس کا علمی تجزیہ کیا جائے۔ اس قسم کا علمی تجزیہ صحت مند علمی سرگرمی کو بڑھاتا ہے۔ وہ صحت مند علمی سرگرمی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے۔ صحت مند تنقید اگر مذہب کے میدان میں ہو تو اس سے لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح اگر اس قسم کی تنقید سیکولر میدان میں ہو تو اس سے علم کے میدان میںترقی ہوگی۔

﴿ تعلیم کی اصل اہمیت یہ ہے کہ تعلیم آدمی کو باشعور بناتی ہے﴾

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.