Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2018
Al-Risala December 2018

رب العالمین کا شکر

Urdu · 2 min read

اس دنیا میں انسان کے لیے بقدر ضرورت چیزیں رکھی گئی ہیں، نہ کہ بقدر اشتہا، تو انسان اس دنیا میں کس طرح خدا کا شکر گزار بن سکتا ہے۔(مولانا عبد الباسط عمری، قطر)

other sourceWords of another person or source

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ حالت میں انسان صرف بقدر ضرورت چیزوں کا تحمل کرسکتا ہے۔ بقدر اشتہا چیزوں کا تحمل انسا ن کے لیے موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے بقدر اشتہا کا طالب ہونا، ایک غیر فطری بات ہے۔ وہ انسان کی فطرت کا حقیقی تقاضا نہیں۔

اس حقیقت کا اعتراف موجودہ دنیا کے اپنے وقت کے سب سے زیادہ امیر آدمی امریکا کے مسٹر بل گیٹس (پیدائش1955 ) نے کیا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا— اگر تم ایک ملین ڈالر سے زیادہ حاصل کرلو، تب بھی تمھاری ضرورت ایک ہمبرگر ہی رہے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Once you get beyond a million dollars, it's still the same hamburger.

اس معاملے میں شکر گزاری یہ ہے کہ آپ اللہ کی اس رحمت کا اعتراف کریں کہ انسان کی جو حقیقی ضرورت تھی، وہ اللہ نے انسان کو عطا کیا۔ اگر اللہ ایساکرتا کہ انسان کو اس کی حقیقی ضرورت سے زائد دیتا تو ایسی حالت میں انسان کے اندر فساد پیدا ہوتا، نہ کہ شکر۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اس کی فطرت کے مطابق دیا، نہ کہ اس کی خواہش کے مطابق۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اس حکمت کو دریافت کرے، اور اس صورتِ حال کو شکر کا مسئلہ بنائے، نہ کہ شکایت کا مسئلہ۔

بل گیٹس کی مثال بتاتی ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت آئی، تو اس نے پایا کہ اس کے بچے بگاڑ میں مبتلا ہوگئے۔ اس بنا پر بل گیٹس نے اپنی دولت کا بڑا حصہ چیریٹی میں دے دیا، کیوں کہ اس نے دیکھا کہ ضرورت کے بقدر دولت انسا ن کواپنی حد پر رکھتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر انسان کو ضرورت سے زیادہ دولت مل جائے، تو وہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content