نصیحت کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے فقہی زبان میں نصیحت کرنا، اور دوسرا ہے، نفسیات کی زبان میں نصیحت کرنا۔ فقہی زبان اوامر اور نواہی (do’s and don’ts) کی زبان ہوتی ہے۔ اس میں صرف حکم کی زبان ہوتی ہے۔ یعنی یہ کرو اور وہ نہ کرو۔اس طرح کی زبان ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو پہلے سے عمل کے لیے تیار ہوں۔ لیکن جو آدمی پہلے سے عمل کے لیے تیار نہ ہو اس کی اصلاح کے لیے امر و نہی کی زبان کافی نہیں ہوسکتی۔ایسے آدمی کے لیے وہ زبان مفید ہے جس کو نفسیات کی زبان کہا جاتاہے۔ نفسیات کی زبان کیا ہے۔یہ وہی زبان ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔یعنی ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دل میں اتر جائے۔یہاں دل (نفس )سے مراد عقل ہے۔ یعنی بات کو ایسے اسلوب میں بیان کیا جائے جو مخاطب کی عقل کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ جس کو سن کر مخاطب قول کی اہمیت کو دریافت کرے، وہ اس کو غور و فکر کے قابل سمجھے ۔اس کو سن کر آدمی سوچ میں پڑجائے، جو اس کے ذہن کے لیے مہمیز کا کام کرے۔ امر و نہی کی زبان صرف ایسے شخص کے لیے کارآمد ہے جو پہلے سے آپ کی بات کو مانے ہوئے ہو۔ اس کے برعکس، دوسرے قسم کی زبان ہر ایک کے لیے مفید ہے۔ جو شخص اس بات کو پہلے سے مانتا ہواس کے اندر آپ کی بات کی صداقت پر مزید یقین پیدا ہوجائے۔ اور جو شخص آپ کی بات کو پہلے سے نہ مانتا ہو، وہ اس پر غور کرے گا۔ اور عین ممکن ہے کہ اس کو دل سے ماننے والا بن جائے۔ امر و نہی کی زبان فقہی کلام کے لیے درست ہے۔ لیکن دعوت و اصلاح کے میدان میں صرف وہی کلام مفید ہے جو نفسیاتی اسلوب میں کہا گیا ہو، جو آدمی کے عقل کو ایڈریس کرنے والا ہو، جس کو سن کر آدمی کا دل گواہی دے کہ وہ واقعۃ ایک بر حق کلام ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔