Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala december 2016
Al-Risala december 2016

اصلاحِ امت

Urdu · 3 min read

اصلاح امت کا سوال ہمیشہ نبوت کے دور کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اصلاحِ امت کا مطلب ہے----- امت کی بعد کی نسلوں میں جب زوال آجائے تو زوال یافتہ لوگوں کو پیغمبر کے دور کی طرف لوٹانا۔ گویا اصلاح امت کا مقصد ہے: بعد کے دور پیدا ہونے والے امت کے افرادکو نبوت کے دور کی طرف واپس لے جانا۔ یہی بات امام مالک نے اپنے استاد ، وہب ابن کیسان کے حوالے سے ان الفاظ میں کہی ہے: إنہ لا یصلح آخر ہذہ الأمة إلا ما أصلح أولہا، قلت لہ:یرید ماذا؟ قال یرید التقى (مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر 783) ۔ قرآن میں اصحابِ رسول کی صفت اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّار (48:29)بتائی گئی ہے۔یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ قوموں کے بارے میں کہا گیا ہے: یُضَاہِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ (9:30)۔ یعنی وہ دین کے معاملے میں خارجی ماحول کا اثر قبول کرلیتے ہیں۔ ان آیات میں کچھ امتوں کے حوالے سے فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ جب ایک امت اپنے دورِ عروج میں ہو تو وہ اپنے اصولوں میں اتنی پختہ ہوتی ہے کہ وہ ماحول کا اثر قبول کیے بغیر اپنے دینی اصول پر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جب کسی امت پر زوال کا دور آجائے تو اس کے اندر اصول پسندی کا مزاج باقی نہیں رہتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میںماحول کا اثر قبول کرنے لگتی ہے۔ امتوں کے اندر بگاڑ کا سبب یہی ہے۔ کسی امت پر جب زوال کا یہ دور آجائے تو اس کے مصلحین کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ امت کے احوال کا گہرا مطالعہ کرکے اس کی نوعیت کو سمجھیں۔ وہ بگاڑ کے اصل سبب (root cause) کو دریافت کرکے حقیقت پسندانہ انداز میں اس کے اصلاح کی منصوبہ بندی کریں۔ موجودہ زمانہ ایک ایسا زمانہ تھا جب کہ کمیونزم اور سوشلزم اور ڈیماکریسی کا بہت چرچا ہوا۔ اس کے علم بردار سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system)کے انداز میں زندگی کا مطالعہ کرنے لگے۔ اس کے اثر سے موجودہ زمانہ میں مضاہات (imitation)کی ایک نئی صورت وجود میں آئی۔ مسلم مفکرین اسلام کی تعبیر سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) کی صورت میں کرنے لگے۔مثلا انھوں نے یہ کیا کہ قرآن میں جو احکام لازم کے صیغے میں دیے گیے تھے ،ان کو متعدی کے صیغے میں تبدیل کردیا۔ یعنی کتاب اللہ میں جو احکام انفرادی پیروی کے معنی میں دیے گیے تھے، ان کو وہ بذریعہ طاقت نفاذ (enforcement) کی اصطلاحوں میں بیان کرنے لگے، وغیرہ۔ فعل لازم کو فعل متعدی بنانے کی یہ غلطی باعتبارِ نتیجہ امت کے اندر مختلف قسم کی برائیوں کا سبب بن گئی۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ امت میں سیاسی انتہاپسندی (political extremism) کا مزاج پیدا ہوگیا۔ لوگ اتھاریٹی سے ٹکراؤ کرنے لگے۔ تاکہ وہ اپنے مطلوبہ نظام کو نافذ کرسکیں۔ اس کے نتیجے میں امت دوگروہوں میں بٹ گئی۔ اس کے بعد امت کےاندر وہ چیز پیدا ہوئی جس کو ریڈیکلائزیشن (radicalization)کہا جاتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، یہ سیاسی انتہاپسندی (political extremism) مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر جو مایوسی پیدا ہوئی ، اس کا انجام ایک شدید تر برائی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور وہ خود کش بمباری (suicide bombing) ہے۔ خود کش بمباری کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر مفروضہ دشمن کو مغلوب نہ کرسکو تو اپنی جان دے کر اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔ اصلاح امت اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام میں ہر وقت یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی افراط یا تفریط کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے، اور پھراس کا کام اصلاح کے بجائے بگاڑ کا سبب بن جائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content