جس شخص کا ذہن بگڑا ہوا ہو، اس کے سامنے سچائی آتی ہے تو وہ اس کے مقابلے میں دحض کا معاملہ کرتا ہے۔ یعنی حق کی آواز کو دبانا۔قرآن میں اس معاملہ کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِینَ إِلَّا مُبَشِّرِینَ وَمُنْذِرِینَ وَیُجَادِلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوا بِہِ الْحَقَّ وَاتَّخَذُوا آیَاتِی وَمَا أُنْذِرُوا ہُزُوًا (18:56)۔ یعنی رسولوں کو ہم صرف خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں۔ اور منکر لوگ ناحق کی باتیں لے کر جھوٹا جھگڑا کرتے ہیں، تاکہ اس کے ذریعہ سے حق کو باطل ثابت کردیں اور انھوں نے میری نشانیوں کو اور جو ڈر سنائے گئے ان کو مذاق بنا دیا۔ رسول کو مبشر اور منذر بنا کر بھیجنے کا مطلب ہے، دلیل کے ساتھ بھیجنا۔ اللہ کا رسول اپنی بات کو دلائل کی زبان میں پیش کرتا ہے۔ لیکن جو لوگ اپنی غیر سنجیدگی کی بنا پر رسول کی بات کو ماننا نہیں چاہتے، وہ اس کے مقابلے میں دحض کا معاملہ کرتے ہیں۔ وہ دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے استہزاء کے زبان میں اس کو رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک بے حد غلط کردار ہے۔ یہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اصل یہ ہےکہ حق کی دعوت ہمیشہ انسانی فطرت کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر آدمی سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو وہ حق کو اپنی فطرت کے مطابق پاکر اس کو قبول کرلے گا۔ لیکن وہ ظلم اور علو کی بنا پر ایسا نہیں کرتا۔ یہی بات قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے: وَجَحَدُوا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَا أَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا (27:14)۔ یعنی انھوں نے ان کا انکار کیا ظلم اور علوکی بنا پر۔حالاں کہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا۔یہاں ظلم کا مطلب ہے کہ داعی کی دلیل کو استہزاء کے ذریعہ کم دکھانا، اور اپنی بات کو بڑھا چڑھا کر زیادہ اہم بتانا۔ یعنی اپنے غیر سنجیدہ جواب کے ذریعہ یہ ظاہر کرنا کہ داعی کی بات اس قابل ہی نہیں کہ اس کو کوئی وزن دیا جائے۔یہ دونوں طریقے باطل طریقے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔