Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala december 2016
Al-Risala december 2016

دین کی حقیقت

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر107 کے الفاظ یہ ہیں:اَرَأَیْتَ الَّذِی یُکَذِّبُ بِالدِّینِ۔ فَذَلِکَ الَّذِی یَدُعُّ الْیَتِیمَ ۔ وَلَا یَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْکِینِ ۔ فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّینَ۔ الَّذِینَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ ۔ الَّذِینَ ہُمْ یُرَاءُونَ ۔ وَیَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (سورہ الماعون)۔یعنی کیا تم نے نہیں دیکھا اس شخص کو جو جزاء کے دن کو جھٹلا تا ہے۔ ایسا ہی شخص یتیم کو دھکا دیتا ہے۔ اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں ابھارتا۔ پس تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ وہ جو دکھلاوا کرتے ہیں۔ اور معمولی ضرورت کی چیزیں بھی نہیں دیتے۔ قرآن کی اس سورہ میں ایک خصوصی اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس سورہ میںسب سے پہلے نتیجہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ان چیزوں کا ذکر ہے، جو کسی انسان کو اس نتیجہ تک پہنچانے والی ہیں۔اس سورہ میںپہلی بات تکذیبِ دین ہے۔ یعنی روز جزاء (Day of Judgement)کو نہ ماننا ۔ جو لوگ دنیا میں اس طرح زندگی گزاریں، جیسے حیوان زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنے عمل سے اس بات کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ ان کے نزدیک دنیا ایک بے مقصد دنیا ہے۔ وہ کسی مقصد کے بغیر شروع ہوئی، اور کسی مقصد تک پہنچے بغیر ختم ہوجائے گی۔ ایسے لوگوں کے لیے آخری انجام ویل ہے۔ یعنی تباہ کن ناکامی۔ ایسے لوگوں کی ظاہری علامت کیا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر پاتے جن کو وہ اپنے مقابلے میں بے زور سمجھتے ہوں۔ مثلا یتیم اور نادار لوگ۔ وہ جو کچھ کماتے ہیں، اس کو صرف وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ دوسروں کے لیے ان کی کمائی میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ وہ اگر بظاہر دین دار ہوں، تب بھی ان کی دین داری صرف کچھ ظواہر کے معنی میں ہوتی ہے۔ ان کی دین داری دین کی حقیقی اسپرٹ سے خالی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے معمولی درجہ میں بھی دینے والے نہیں بنتے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content