ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: قال أنس بن مالک، قال لی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: یا بنی، إن قدرت أن تصبح وتمسی لیس فی قلبک غش لأحد فافعل(سنن الترمذی، حدیث نمبر 2678)۔ انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا، اے میرے بیٹے، اگر تم اس پر قادر ہو کہ تم صبح کرو اور تم شام کرو اور تمھارے دل میں کسی شخص کے خلاف غش نہ ہو تو تم ضرور ایسا کرو۔
غش کا مطلب کینہ (malice) ہے۔ حدیث میں غش کا لفظ نکرہ ہے ۔ اس لحاظ سے اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ تمھارے دل میں کسی کے خلاف کسی قسم کا کوئی کینہ یا بغض نہ ہو۔ یہ مومن کی ایک بنیادی خصوصیت ہے۔ سچا مومن وہ ہے جس کے دل میں کسی کے خلاف کسی بھی قسم کا کینہ موجود نہ ہو۔
ایک آدمی کے اندرکسی کے خلاف کینہ کب پیدا ہوتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی وجہ سے اس کے دل میں غصہ یا ناراضگی پیدا ہوجائے۔ کسی کے خلاف کینہ کبھی بلاسبب پیدا نہیں ہوتا۔ کینہ جب بھی کسی کے دل میں آتا ہے تو ہمیشہ اس کے پاس اپنے کینے کے لیے ایک سبب موجود ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے پاس اپنے کینے کے لیے کوئی سبب موجود ہو تب بھی تم کینہ نہ کرو۔
اس نصیحتِ رسول کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ اپنے ایمان کی شعوری حفاظت کرو۔ گویا زبان سے ایمان کا کلمہ دہرا دینا کافی نہیں ہے۔ بلکہ مسلسل طور پر اس کی نگرانی کرنا ہے۔ تاکہ کوئی مخالفِ ایمان چیز آدمی کے دل میں داخل نہ ہو۔ کوئی ایسی سوچ اس کے اندر ڈیولپ نہ کرے جو اس کے ایمان کو نقصان پہنچانے والی ہو۔ اگر آدمی اپنے ایمان کی شعوری نگرانی نہ کرے تو عین ممکن ہے کہ وہ کسی ایسی چیز میں مبتلا ہوجائے جو اس کے ایمان میں خلل ڈالنے والی ہو، جو اس کے لیے اس کی جنت کو مشتبہ بنادے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔