رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اصحاب رسول کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رائے کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔ حضرت عمر بن الخطاب نے اس موقع پر صحابہ سے کہا کہ اللہ نے اپنے رسول کی رائے میں برکت دی ہے(بارک اللہ فی رأی رسولہ)۔
اس طرح کی اور بھی حدیثیں ہیں جن میں برکت کا لفظ آیا ہے۔ برکت کا لفظ ایسے مواقع پر کسی پراسرار معنی میں نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ پوری طرح ایک معلوم معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک ایسے انسان کے بارے میں ہوتی ہے جو ہمیشہ غیر متعصبانہ رائے قائم کرتا ہے، جو ہمیشہ قرآن کی ہدایات پر غور کرتا رہتا ہے، جو ہمیشہ ذکر اور دعا میں مشغول رہتا ہے، جو منفی سوچ سے مکمل طور پر پاک ہے، وہ مکمل طور پر مثبت سوچ (positive thinking)والا انسان ہے، وہ ایک ایسا انسان ہے جو حالات میں گھرا ہوا نہیں ہے، وہ ہمیشہ حالات سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے قائم کرتا ہے، اس کی رائے وقتی تاثر کے تحت بننے والی رائے نہیں ہوتی، بلکہ وہ غیر متاثر ذہن کا نتیجہ ہوتی ہے۔
یہی وہ چیزیں ہیں جس نے رسول کی شخصیت بنائی تھی۔ رسول ایک پہلو سے اللہ کا نمائندہ تھا، اور دوسرے پہلو سے وہ انسان کے لیے ایک اسوہ (role model) کی حیثیت رکھتا تھا۔صحابیٔ رسول کے اس جملہ سے ہمیں یہی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر تم چاہتے ہوکہ تمھاری رائے درست رائے ہو توتفکر اور تدبر کے معاملے میں رسول اللہ کا طریقہ اختیار کرو۔ رسول اللہ کے نمونے کے مطابق اپنے ذہن کی تربیت کرو۔ رسول اللہ کےذہن کے مطابق اپنا ذہن بناؤ ۔رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ وسیع تر اعتبار سے اس قول میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اس طرح تدبرکرو جس طرح تم رسول کو تدبر کرتے ہوئے پاتے ہو۔ اگر تم ایسا کروگے تو تمھاری رائے اللہ کی توفیق سے درست رائے بن جائے گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔