انسان کے بارے میں سوچنے کے دو طریقے ہیں— ایک ہے فرد(individual) کو لے کر سوچنا اور دوسرا ہے اجتماعی نظام (social system) کو لے کر سوچنا- اگر آپ یہ بتانا چاہیں کہ ایک انسان اپنی انفرادی سطح پر کس طرح سوچے، عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے اس کا نشانہ کیا ہو- اِس طرح اگر آپ کسی شخص کے انفرادی رویّے کے بارے میں ایک نقطہ نظر متعین کرنا چاہیں تو آپ بآسانی اس کا تعین کرسکتے ہیں- کوئی شخص خواہ اس کو مانے یا نہ مانے، لیکن جہاں تک آپ کے نقطہ نظر کی بات ہے، وہ کسی کنفیوزن کے بغیر ایک واضح بات ہوگی-
اجتماعی نظام یا مجموعہ کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- اجتماعی نظام کی کوئی واحد صورت بنانا ممکن نہیں، کیوں کہ اجتماعی نظام کا کوئی قابل عمل نقشہ صرف اس وقت بن سکتا ہے جب کہ ہر شخص اُس کو یکساں طورپر مانے- مگر انسان کی اجتماعی زندگی کی تشکیل اِس طرح ممکن نہیں ہوتی، اِس لیے انسان کی اجتماعی زندگی کا کامل معنوں میں کوئی یکساں نظام بنانا بھی ممکن نہیں-
ایسی حالت میں ضروری ہے کہ زندگی کے دونوں شعبوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا جائے- فرد کے معاملہ کو آئیڈیل سے جانچا جائے- لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کا معاملہ ہے، اُس کے معاملہ میں آئیڈیل کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ عملاً کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں- ایک فرد سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ تم اِس طرح رہو، لیکن مجموعے پر اس کو عملاً نافذ کرنا ممکن نہیں- جو لوگ یہ غلطی کریں کہ وہ فرد اور مجموعہ دونوں کو ایک معیار (yardstick)سے جانچیں، وہ یقیناً مایوسی کا شکار ہوجائیں گے، وہ کبھی اپنے عمل کی صحیح منصوبہ بندی نہ کرسکیں گے-فرد اور اجتماع کی یہ تقسیم بے حد اہم ہے- کوئی تحریک اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتی ہے، جس میں اس فرق کو ملحوظ رکھا گیا ہو- جس تحریک میں اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا جائے، وہ تحریک عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی- ظاہری دھوم کے باوجود وہ سماج کو کوئی مثبت چیز نہ دےسکے گی- کسی عمل کے درست ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس کو نتیجہ کے اعتبار سے جانچا جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.