پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کا آغاز مکہ میں کیا- تیرہ سال کے بعد آپ نے مکہ سے ہجرت کیا اور مدینہ میں قیام فرمایا- جب آپ مدینہ کی سرحد پر پہنچے، اس وقت اہلِ مدینہ کے ایک گروہ نے آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کیا- اس وقت آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر بھی تھے- دونوں کو خطاب کرتے ہوئے اہلِ مدینہ نے کہا: أدخلا آمنَین مطاعَین(مسند احمد، رقم الحدیث: 12234) یعنی آپ دونوں مدینہ میں داخل ہوجائیں ، آپ دونوں کے لیے یہاں امن ہے، اور آپ دونوں ہمارے لیے قابلِ اتباع ہیں-
مدینہ میں اس حیثیت سے آپ کا استقبال کیوں کر ممکن ہوا- وہ قبل از ہجرت عمل کی بنا پر ممکن ہوا تھا- ہجرت سے پہلے کچھ اصحاب مدینہ گئے، وہاں وہ لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرتےرہے- اس وقت مطبوعہ قرآن موجود نہ تھا، اس لئے وہ اپنے حافظہ سے لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے رہے- اس بنا پر وہ وہاں مقری کہے جاتے تھے- یہ گویا ہجرت سے پہلے ابتدائی تیاری کا معاملہ تھا- اس ابتدائی تیاری کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مدینہ میں اسلام گھر گھر میں داخل ہوگیا- جیساکہ روایت میں آیا ہے: لم تبق دار من دور الأنصار إلا وفیہا ذکر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم (السیرة النبویة لابن کثیر : 2/179) یعنی مدینہ کے گھروں میں سے کوئی گھر نہ بچا، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا نہ ہورہا ہو-
یہ معاملہ جو مدینہ میں پیش آیا، وہ بھی رسول اور اصحابِ رسول کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے- کوئی دعوتی مشن اسی وقت کامیاب ہوسکتا ہے، جب کہ اس کے افراد اس سنت پر منظم انداز میں عمل کریں- وہ مشن سے پہلے قبل ِ مشن (pre-mission) کی اہمیت کو سمجھیں، اور اس پر عمل کریں- یہ عمل صرف اس وقت کامیاب ہوسکتا ہے جب کہ وہ پرامن ہو اور اس کو مکمل طورپر لو پروفائل (low profile) کے انداز میں انجام دیا جائے-
اللہ کے فضل سے الرسالہ مشن کے ساتھ ایسےہی معاملہ پیش آیا- اسلامی مرکز1970 میں قائم ہوا- اس کے بعد ماہ نامہ الرسالہ 1976 میں جاری ہوا- اس طرح یہ دعوتی مشن تقریباً چالیس سال تک برابر چلتا رہا- اس کے بعد اس کے معاون کے طور پر الرسالہ انگریزی، فروری 1984 میں جاری ہوا جو کہ اب ماہ نامہ اسپرٹ آف اسلام کی صورت میں بنگلور سے نکل رہا ہے- اس درمیان دوسرے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ بھی بقدر امکان کام ہوتا رہا-
یہ گویا ابتدائی تیاری کا عمل تھا، جو تقریباً چالیس سال تک جاری رہا- اس مسلسل کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہر جگہ ایسے لوگ قابل لحاظ تعداد میں موجود ہیں، جو پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کررہے ہیں- نیز انھوں نے الرسالہ مشن کے تحت شائع ہونے والی کتابوں کو بھی وسیع پیمانے پر پڑھا ہے- ایسے افراد اور ایسے حلقے نہ صرف انڈیا میں، بلکہ مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں-
اللہ کا شکر ہے کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ایسے لوگ وسیع پیمانے پر متحرک ہوگئے ہیں- وہ ہر جگہ مختلف طریقوں سے اس مشن کو آگے بڑھارہے ہیں- خاص بات یہ ہے کہ یہ کام کسی مرکزی ہدایت یا کنٹرول کے بغیر خود اپنے جذبہ (spirit) کے ساتھ ہورہاہے- ہرجگہ بڑی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو لأجل اللہ (for the sake of God) اس کام کو انجام دے رہے ہیں- وہ جدیدحالات کے لحاظ سے نئے طریقوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کررہے ہیں- یہ کام انتہائی حد تک غیر سیاسی (non-political) انداز میں انجام دیا جارہا ہے-
یہ گویا مذکورہ سنت رسول کا احیاء ہے- دونوں کے درمیان اگر فرق ہے تو وہ صرف ظاہر کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اسپرٹ کے اعتبار سے- اس سنت پر عمل، قدیم زمانے میں اُس وقت کے حالات کے مطابق کیا گیا تھا- موجودہ زمانے میں اِس سنت پر عمل، جدید حالات کے اعتبار سے انجام پا رہا ہے- اس سنت پر عمل کا نتیجہ پہلے قدیم حالات کے اعتبار سے ظاہر ہوا تھا- موجودہ زمانے میں اس سنت پر عمل کا نتیجہ جدید حالات کے اعتبار سے پیش آرہاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔