قرآن کی سورہ نمبر 95 میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (التین: 1-4) اس سورہ میںتین، زیتون، طور سینین اور بلد امین، یہ سب علامتی الفاظ ہیں- اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کرہ ارض (planet earth)جہاں پھل دار درخت ہیں، سرسبز پہاڑ ہیں، اور پررونق شہر آباد ہیں، وہ ایک حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں- وہ یہ کہ یہ زمین جس پر انسان کو آباد کیاگیا ہے، ایک استثنا ئی سیارہ (exceptional planet) ہے- اس قسم کی دنیا وسیع کائنات میں کہیں موجود نہیں- پھر اس زمین پر انسان کو بسایا گیا ہے، ایسا انسان جس قسم کی کوئی دوسری مخلوق ساری کائنات میں کہیں موجود نہیں-
اِس غیر معمولی اہتمام کے باوجود اس دنیا میں ایک انوکھا تضاد (strange contradiction) پایا جاتا ہے-وہ یہ کہ انسان بظاہر سب سے اعلی مخلوق ہے- لیکن عملاً اس دنیا میں اس کو جن حالات کے درمیان رہنا پڑتا ہے وہ اس کے لئے اسفل سافلین (lowest of the low) کی حیثیت رکھتا ہے- یہ استثناء (exception) اور یہ تضاد (contradiction) ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے- وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ یہ پکار رہا ہے کہ اس انوکھی صورتِ حال کی توجیہہ کیا ہے- اس صورت ِحال کی درست توجیہہ کے بغیر یہ دنیا ایک ناقابل فہم ظاہرہ (unexplainable phenomenon) بن جاتی ہے-سورہ کی اگلی آیتوںمیں اسی سوال کا جواب ہے-
سورہ کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں اور عمل صالح کریں تو ان کے لئے آخرت کی دنیا میں کبھی ختم نہ ہونے والا اجر (unending reward) ہے- اس آیت میں ایمان سے مراد سچائی کی دریافت ہے، اور عمل صالح سے مراد یہ ہے کہ آدمی اس دریافت کردہ سچائی کے مطابق عمل کرے- جو لوگ اس کا ثبوت دیں، وہ برے انجام سے بچ جائیں گے اور خالق عالم کی طرف سے اعلی انعام کے مستحق قرار پائیں گے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔