Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Al-Risala December 2012
Al-Risala December 2012

خبرنامہ اسلامی مرکز — 219

Urdu · 15 min read

1- نئی دہلی کے تاج پیلیس (ہوٹل) میں 3 اگست 2012 کو افطار کا ایک پروگرام ہوا- یہ پروگرام ترکی کے ادارہ ایجوکیشنل ٹرسٹ (Educational Endowment Trust) کی طرف سے کیا گیا تھا- اس کی دعوت پر سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کی ٹیم کے نمائندوں نے اس میں شرکت کی- یہاں ملک وبیرون ملک کے اعلی افسران اور تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے- مثلاً کمیونکیشن منسٹر کپل سبل ،اور ٹرکش ایمبیسڈر مسٹربراق (Burak Akcapar) وغیرہ- یہاںحاضرین کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-

2- اینگلو عربک اسکول (دہلی) میں 15 اگست 2012 کے موقع پر ایک فنکشن ہوا- اِس میں اعلی تعلیم یافتہ ہندو-مسلم حضرات نے شرکت کی- سی پی ایس کی دہلی فیلڈ ٹیم (DFT) کی طرف سے لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-

3- پولس کمیونٹی کی طرف سے 13 اگست 2012 کو سہارن پور (یوپی) کے کرسٹل پیلیس (امبالا روڈ) میں روزہ افطار کا ایک پروگرام ہوا- اِس میں سہارن پور کے تعلیم یافتہ ہندو-مسلم حضرات کے علاوہ، اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی- اِس موقع پر سہارن پور کے حلقہ الرسالہ کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-

4- پیس ہال (سہارن پور) میں 25 اگست 2012 کو عید ملن کا ایک پروگرام ہوا- اِس موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں نے اِس پروگرام میں شرکت کی- یہاں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ عید گفٹ کے طور پر دیاگیا-

5- نیشنل میڈیکل کالج (سہارن پور) میں 9 ستمبر2012 کو ایک ورک شاپ ہوا- اِس میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں نے شرکت کی- مثلاً گنیز بک آف ریکارڈ میں شامل ڈاکٹر اشوک جین، وغیرہ - اِس موقع پر حاضرین کو دعوتی میٹریل دیاگیا- ڈاکٹر اشوک جین نے بعد کو ٹیلی فون کے ذریعے بتایاکہ انھوں نے سی پی ایس کے لٹریچر کا مطالعہ کیا- انھوں نے کہا کہ اِن کتابوں کے مطالعے نے مجھے اِس حقیقت کو سوچنے پر مجبور کیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی آخرت کے لیے تیاری کرے- انھوں نے کہا کہ میں اِس مشن میں شامل ہو کر دوسروں تک اس کا پیغام پہنچانا چاہتا ہوں-

6- صدر اسلامی مرکز کے مضامین مختلف انگریزی جرائد میں چھپ رہے ہیں- اِس سلسلے میں 16 ستمبر 2012کو درج ذیل اخبار میں حسب ذیل مضمون شائع ہوا:

In the Name of God, Deccan Chronicle (Daily Newspaper, Hydrabad)

7- جموں وکشمیر کے چند نمائندہ افراد ایک پروگرام کے تحت دہلی آئے- اس موقع پر 22-23 ستمبر 2012 کو صدر اسلامی مرکز نے دعوتی اور تربیتی موضوع پر خصوصی خطاب کیے— یہ تمام خطابات دوسرے خطابات کی طرح سی پی ایس کے ویب سائٹ پر محفوظ ہیں-

8- مسٹر اے والٹر (A. Walter Emmerich) نے 24 ستمبر 2012 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا- اِس انٹرویو کا موضوع تھا— انڈین مسلم اور ان کے مسائل-مسٹر والٹر آکسفورڈ یونی ورسٹی (لندن) میں ڈیولپ مینٹ اسٹڈیز کے تحت پی ایچ ڈی کررہے ہیں- مسٹر والٹر کو پرافٹ آف پیس اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیاگیا-

9- پرل پیلیس (سہارن پور) میں 29 ستمبر 2012 کو نکاح کی ایک تقریب ہوئی- یہاں موجود تمام لوگوں کو سہارن پور ٹیم کی طرف سے دعوتی لٹریچر دیاگیا- دولہا اور دلہن کو تذکیر القرآن، اور ’خاندانی زندگی‘ کا ایک نسخہ دیا گیا-

10- نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 ستمبر 2012) میں شائع شدہ صدر اسلامی مرکز کے ایک مضمون (Everything is Temporary) پر قارئین کے چند تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں:

— Thanks for a timely piece of article that serves as an eye-opener to all of us. As we keep getting tangled or caught up in many difficulties in our day-to-day situations, we need support and mental strength that comes from moral support offered by a mentor. Today, at a very personal level, as I read these words of wisdom, I am helped to unshackle the clouds of depression cropping up and I feel once again motivated and cheerful to address the day’s challenges. (Ramana Acharyulu)

— It is a very meaningful article. Maulana’s understanding of the society, nature, and how to live life is truely amazing. This is best formula one can adopt for everyday life. (Dr Giriyappa Kollannavar)

— Very inspiring article. Faith in the divine could do wonders. The belief that we are being watched over and are protected brings in lots of hope and the will to face difficult times. (Dr Rashmi Chaturvedi)

— Surely this is an excellent article, particularly for those who are seeing their lives as purely hopeless owing to several negative problems in their day-to-day life. (Gangadharan Pulingat)

— Thank you so much for posting this blog. It has really energized my mind to fight with difficulties. (Archana Vishwakarma)

— This is a fantastic article. All things in life are temporary and transient and will eventually change and fade away. Nothing stays the same forever and sooner we learn how to accept that fact, the happier we will be. (C.Swami)

11- یکم اکتوبر 2012 کو سنت نرنکاری بھون (سہارن پور) میں ہندو گروؤں کا ایک پروگرام ہوا- اِس موقع پر حاضرین کو قرآن کا ہندی ترجمہ اور ہندی بک لیٹ — ستیہ کی کھوج، جیون کا اُدیش، وغیرہ دیاگیا-

12- نئی دہلی کے شری کرشنا آڈیٹوریم میں 2 اکتوبر 2012 کو ایک پروگرام ہوا- اِس کا موضوع یہ تھا:

Non-Violence, World Peace and Environment Conservation

یہ پروگرام آل انڈیا جین آرگنائزیشن (All India Shwetambar Jain Organization) کی طرف سے کیاگیا تھا- اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس میں شرکت کی اور موضوع پر آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی- یہ تقریر ہندی زبان میں تھی- اِس تقریر میں اسلام کی پرامن تعلیمات کا تعارف پیش کیا گیا- اِس موقع پر سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا- اِس پروگرام کو دور درشن ٹی وی چینل نے لائیو ٹیلی کاسٹ کیا-

13- کشمیر کے مختلف مقامات پر ہمارے ساتھی بڑے پیمانے پر وہاں کے غیر ملکی ٹورسٹس (tourists) اور مقامی لوگوں کے درمیان دعوت کا کام کررہے ہیں۔ اِس سلسلے میں 1-3 اکتوبر 2012کو کشمیر یونی ورسٹی (سری نگر) کے سنسکرت ڈپارٹمینٹ کی طرف سے آل انڈیا اورینٹل کانفرنس کا 46 واں سیشن منعقد ہوا- اِس موقع پر حلقہ الرسالہ کے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا- خاص طورپر آسام کے گونر مسٹر جے  بی پٹنائک کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا-’’صبح کشمیر‘‘ (The Dawn Over Kashmir) کو لوگوں نے بہت شوق سے لیا اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا-یہاں حاضرین کے چند تاثرات درج کیے جاتے ہیں:

— میں بہت دنوں سے ہندی ما دھیم میں قرآن پڑھنا چاہتا تھا، آج اِس دھرم گرنتھ(قرآن) کو پاکر میں بہت خوش ہوں- یہ گرنتھ انسانیت کا سبق دیتاہے -(پروفیسر رام سمیر یادو، شعبہ سنسکرت، لکھنؤ یونی ورسٹی)

— خدا نے انسان کو کئی زبانیں دی ہیں- اِن میں سب سے اچھی زبان ہم کو اردو معلوم ہوتی ہے- مطالعے کے بعد میں نے پایا کہ ہندی، اردو کے بغیر ادھوری ہے- آج یہاں ہندی اور اردو میں قرآن کا ترجمہ پاکر میری دیرینہ خواہش پوری ہورہی ہے-(منوویندر سنگھ، مظفر پور، بہار)

— آج قرآن کا انگریزی ترجمہ پاکر مجھ کو بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے- (مہیندر راول، پولس انسپکٹر، گجرات، جونا گڑھ)

— Extremely impressed by the noble activities and precious publications of CPS, Kashmir. The activities are meant for promotion of universal brotherhood and mutual fellow-feelings which appreciating the endavour of the organisation, I wish this spiritual exercise all success in the days to come. (Prof. Hare Krishna Satyapathy, VC. R.S. University, Tirupati)

14- پنجاب (پاکستان) کے معروف صوفی بابا عرفان الحق نے ایک پروگرام کے تحت انڈیا کا سفر کیا- اِس سلسلے میں 4 اکتوبر 2012 کو پیس ہال میں ایک پروگرام کیاگیا- اِس موقع پر اُن کو اور ان کے ساتھیوں کو صدر اسلامی مرکز کی کتابیں دی گئیں- بابا عرفان الحق نے یہاں گفتگو کے دوران کہا کہ میں نے مولانا وحید الدین خاں کی کتابیں پڑھی ہیں- اِسی کا نتیجہ ہے کہ میں قرآن وسنت کے علاوہ، کسی اور ’’مسلک‘‘ سے اپنے آپ کووابستہ نہ کرسکا- اِس پروگرام میں بڑی تعداد میں اعلی تعلیم یافتہ ہندو-مسلم حضرات نے شرکت کی- تمام حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا-

15- نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (2 اکتوبر 2012) میں صدر اسلامی مرکز کے شائع شدہ مضمون (Blasphemy in Islam) پر قارئین کے چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں:

— Your article made a very interesting reading, which is in consonance with my own very little understanding of the readings of the Quran over the last many years. I congratulate you for explaining this so vividly, and in a scholarly manner, as well. I would be too glad to read such scholarly articles / books of yours, especially the scientific understandings or inference of Quran. (P Ravindra Kumar, Bangalore)

— Thank you for sharing the beautiful article on a proper response to blasphemy. It is an eloquent articulation of the religious freedom that we both believe God wants for all humanity to enjoy. I hope your article reaches a very wide and receptive audience. (Galen Carey, W. D.C.)

16- صدر اسلامی مرکز کے ٹیلی فونی خطاب (Tele-Conference) انڈیا اور انڈیا کے باہر کے لیے جاری ہیں- انڈیا میں یہ پروگرام مختلف مقامات کے لیے ہوتا ہے- مثلاً بنگلور، کلکتہ، چنئی، وغیرہ- امریکا کے لیے ہونے والے خطاب کی تفصیل درج ذیل ہے:

Shift of Emphasis, 2nd September 2012

Discover Your Ignorance , 16th September 2012

The Issue of Blasphemy in Islam , 30th September 2012

Relative Value of Things | , 14th October 2012

17- سی پی ایس کی دہلی فیلڈ ٹیم (DFT) کے ذریعے دعوت کا کام جاری ہے- اِس سلسلے میں مقامی طور پر دعوتی کام کرنے کے علاوہ ٹیم کے لوگ دوسرے امکانات;کو دعوت کے لیے استعمال کرتے ہیں- مثلاً بک فیر، وغیرہ- اِس سلسلے میںٹیم کے لوگوں نے تین بک فیر میں شرکت کی— گوالیار بک فیسٹ (مدھیہ پردیش)10-19 اگست 2012 ، اندور بک فیسٹ (مدھیہ پردیش) 14-23 ستمبر2012 ، ناگ پور بک فیسٹ (مہاراشٹریہ) 28 ستمبر تا 7 اکتوبر 2012 - اِن بک فیرز میں دہلی فیلڈ ٹیم کے ممبر مسٹر جنید الاسلام نے اپنے ذاتی انتظام کے تحت بک اسٹال لگایا- یہاں سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسلامی لٹریچر اور قرآن کے ترجمے حاصل کیے- دعوتی اعتبار سے یہ بک اسٹال بہت کامیاب رہا- یہاں اِس سلسلے میں چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں:

— Overwhelming response from all age groups. I fell very ill and had 103 degree’ fever, I prayed to God and in the morning to my surprise, my fever was gone. And after that for the next 10 days, I attended the book fest. An Assistant Commissioner, Muhammad Yunus came at the stall (Gwalior) with a non-Muslim friend. He had several questions about the ideology . I explained to him. He had read the book in one day and came back the next day as a different person. Yunus said that after talking with me the non Muslim youth’s mind had also undergone a change as he was also negative about Islam . I told Yunus that you should give the Quran to all at Eid. The idea struck him and he placed an order of 175 Quran and the non Muslim youth also bought some copies along with other books. Our initial stock of Quran had finished in few days , another stock was sent from Delhi . Some of those who left the addresses, called me up and asked when would we recieve our copy of the Quran. Reaching of the second consignment was also very miraculous , my neighbour Mr. Vijay who works for the state transport volunteered to send the Quran. The residents of Gwalior are open hearted and nationalistic and loving people. During the entire period, there was not a single untoward happening, they were all very open to the message of Islam . All of them were extremely welcoming. (Junaidul-Islam)

— As a reader, I always wanted to read the Quran. Now, it is available in Hindi and English. I am very grateful. (Anand Lakra, Indore)

— I had a dream many years back in which it was written: “Read Quran!” (Hansharastan Chopra, Indore)

— میں بہت دنوں سے قرآن کو سمجھنا چاہتی تھی- آپ نے مجھ کو قرآن پڑھنے کا موقع دیا،شکریہ (مزپونم بترا، اندور)

— کٹر وادی وچار دھارا سے بچنے اور سچا گیان حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، ا ور وہ ہے سچائی کو خود سے ڈسکور کرنا- اِس مقصد کے لیے میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں- مجھے یقین ہےکہ قرآن خداکی کتاب ہے، اور وہ صحیح راستہ دکھاتا ہے- اگرچہ اِس پر کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں، لیکن ہم کو خود ہی اِن پردوں کو ہٹانا ہوگا-(مہیش یادو، اندور)

— قرآن میں آسان طریقے سے بتایا گیا ہے کہ بندہ اپنے خدا کو کس طرح پاسکتا ہے- خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے- وہاں شرمندگی نہ ہو، چہرہ اجلا رہے، یہی سب سے بڑی چیز ہے -(دواکر دونگولے، ناگ پور)

— سی پی ایس کے لٹریچر میں مذہب کو جس طرح پازیٹیو انداز میں پیش کیا گیا ہے،اس کے لیے ہم آپ لوگوں کے بہت شکر گزار ہیں-(راجیش مدھولکر، ناگ پور)

— میں بہت دنوں سے اسلام کے بارے میں سوچ رہی تھی، مجھ کو سی پی ایس کے بک اسٹال سے اچھی کتابوں کا سیٹ مل گیا- شاید میں اِن کتابوں کے ذریعے اسلام کو سمجھ سکوں- (مز سونیا مَنے، ناگ پور)

18- الرسالہ مشن سے متعلق مولانا عبد الباسط عمری، دوحہ، قطر کا ایک تاثر یہاں نقل کیا جاتا ہے:

’’ہم احساس محرومی میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ احساس یافت میں جینےکے قابل بنایا۔ہم بے شعور تھے ، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں شعور عطا کیا۔ہم ظواہر اسلام میں جیتے تھے ، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ روح اسلام سے متعارف ہونے کا موقع دیا۔اسلام ہمارے لئے ہاتھ کی چھنگلیا کی طرح تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ اسے ہماری حقیقی زندگی میں شامل کیا اور اس کو ہمارے لئے روحانی غذا اور ذہنی ارتقاکا ذریعہ بنا دیا- ہم خدا کی شعوری دریافت سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں خدا کی شعوری دریافت سے متعارف کیا۔ہم خدا کو مانتے ہوئے خدا سے دور تھے ،ہمیں معلوم تھا کہ خدا ارحم الراحمین ہے اور ہمیں اس سے حب شدید ہونا چاہیے، لیکن خدا کی دی ہوئی نعمتیں ہم کو کم لگتی تھیں ، یہی وجہ تھی کہ ہم حقیقی جذبات شکر سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ خدا کے ارحم الراحمین ہونے کو کس طرح دریافت کیا جائےاور خدا سے حب شدید کا طریقہ کیاہے۔ہم صرف نفی غیر کو جانتے تھے اور اسی کو خالص توحید سمجھے ہوئے تھے۔نفی ذات کیا ہے، اس سے ہم کلی طور پر بےخبر تھے، یہی وجہ تھی کہ ہم سچی تواضع سے بھی محروم تھے۔اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ نفیِ ذات کا شعور عطا کیا ۔ ہم اللہ اکبر کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے ’’لوگو‘‘ تم بڑے نہیں ہو، اِس سے فخر اور ذاتی بڑائی کا احساس پیدا ہوتاتھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں بتایا کہ اللہ اکبر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے ’’میں‘‘ بڑا نہیں ہوں۔اس سے تواضع کی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے- ہم کنفیوژن میں جیتے تھے - ہمیں معلوم نہیں تھا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ وہ کون سا کام ہے جس کو ہمیں اپنا سپریم کنسرن بنانا چاہئے- اِس وقت اسلام کے نام پر اٹھنے والی مسلم تحریکوں کا حال وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیاہے : کل حزب بما لدیھم فرحون (23:53)- ہر ایک یہ کہتا کہ کرنے کا کام تو یہ ہے جو ہم کررہے ہیں ۔اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں اس کنفیوژن سے نکالا اور ہمیں بتایا کہ دعوت اور معرفت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز ہمارا مقصد زندگی نہیں ، کوئی بھی دوسرا کام ہمارے لئے سپریم کنسرن کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہم مایوسی اورشکایت کی نفسیات میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں دکھایا کہ اِس دنیا میں ہر طرف امکانات ہی امکانات ہیں ۔ ہمیں بس انہیں دریافت کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہمارے اندر شکر ہی شکر پیدا ہوگا، ہمارے اندر سے شکایت اور مایوسی کا کلی طور پر خاتمہ ہوجائے گا-ہماری حالت یہ تھی کہ ہم دعوت اور عداوت دونوں میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ خالص دعوت الی اللہ کو ہمارے اوپر کھولا اور ہمیں پورے معنوں میں ساری انسانیت کے لئے کامل خیرخواہ بنایا ۔ہم قومی فخر میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کوخدا کے شکر میں جینا سکھایا۔ ہم اسلام اور مسلمان دونوں کو ایک چیز سمجھتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ اسلام اور مسلمان دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، وہ ہر گز ہم معنی نہیں- ہم تشدد کلچر اور نفرت کلچر میں جیتے تھے ، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں امن کلچر میں جینا سکھایا ۔ہم اسلاف کی عظمت میں جیتے تھے ، ہم اس کیفیت میں جیتے تھے کہ ماترک الأولون للآخرین شیئا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی عقل اور اللہ کا عطاکیا ہوا دماغ بند پڑا ہوا تھا ،اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کو بتایا کہ ساری عظمتیں صرف اللہ کے لیے ہیں (العظمة للہ وحدہ)- اِس دریافت نے ہمارے دماغ کو کھولا، اور ہمیں ذہنی ارتقا کی نعمت سے نوازا اور ہمیں اپنے ان صاحبِ معرفت بندوں میں شامل ہونے کی تربیت اور توفیق دے رہا ہے جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: یغبطھم الأنبیاء والشہداء یوم القیامة الخ- یہ چند احساسات تھے، جو میرے دماغ میں ہلچل پیدا کررہے تھے ‘‘۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.