سورہ آل عمران قرآن کی ایک طویل سورہ ہے- اس کی آیات 130-200 غزوہ احد (3ہجری) کے بعد نازل ہوئیں- غزوہ احد میں 70 صحابہ شہید ہوئے- اِس موقع پر قرآن کا جو حصہ اترا، اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: إن یمسسکم قرح فقد مسّ القوم قرح مثلہ، وتلک الأیام نداولہا بین الناس، ولیعلم اللہ الذین آمنوا ویتخذ منکم شہداء، واللہ لا یحب الظالمین (3:140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے، تو دوسروں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے- اور ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے- اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا-
قرآن کی اِس آیت میں اصلاً شہید سے مراد مقتول نہیں ہے، بلکہ شہید سے مراد گواہ (witness) ہے- قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں جب تمام انسان اکھٹا کئے جائیں گے اور لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا- اُس وقت کچھ لوگ اللہ کے گواہ کی حیثیت سے کھڑے ہوں گے- اِس گواہی کے دوپہلو ہیں — نظری گواہی، اور عملی گواہی- نظری گواہی سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبے سے آگاہ کردیا جائے- اور عملی گواہی سے مراد یہ ہے کہ زندگی میں اِس حقیقت کا عملی مظاہرہ کیا جائے کہ دنیا میں یہ پوری طرح ممکن تھاکہ ایک شخص اللہ کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم کا پیرو بن سکے- قرآن میں اصحابِ اعراف (7:48) کا ذکر ہے- اصحابِ اعراف سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کی زندگی میں دین ِ حق کی نظری شہادت دی- انھوںنے قولی دعوت کے ذریعے لوگوں کو سچائی سے باخبر کیا- دوسرا گروہ اصحاب الشہادہ کا گروہ ہے- یہ وہ افراد ہیں جو تمام غیر موافق حالات کے على الرغم سچائی پر قائم رہے- ان لوگوں کی زندگی اِس بات کا ایک عملی ثبوت ہوگی کہ دنیا میں جن لوگوں نے سچائی کا طریقہ اختیار نہیں کیا، اُن کے پاس اپنی غلط روش کے لیے کوئی عذر (excuse) موجود نہیں تھا، ان کا کیس سرکشی کا کیس تھا، نہ کہ عذر کا کیس-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔