← Al-Risala December 2011Al-Risala December 2011
ّ جنت : ایک آفاقی تصور
Urdu · 13 min read
پیراڈائز (جنت) کا تصور تمام انسانی سماجوں میں پایا گیا ہے۔ پیراڈائز تمام عورتوں اور مردوں کا ایک عالمی خواب ہے۔ ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ ایک خوب صورت دنیا کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اِسی کو پیراڈائز کہاگیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک متلاشی ٔ جنت حیوان (Paradise-seeking animal) ہے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ پیراڈائز کا تصور ہر سماج میں اور ہر کلچر میں ہمیشہ پایا گیا ہے۔ اِس اعتبار سے پیراڈائز ایک عالمی لفظ ہے۔ معمولی تغیر کے ساتھ وہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ قرآن کا لفظ فردوس (18: 107)بھی خود پیراڈائز ہی کی ایک معرّب(Arabicized) صورت ہے۔ ذیل میں چندزبانوں کی مثالیں درج کی جاتی ہیں، جس سے پیراڈائز کی عالمی نوعیت کا اندازہ ہوگا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Avesta : Pairidaêza Persian : Firdaus
Greek : Paradeisas Latin : Paradisus
French : Paradis English : Paradise
Hebrew : Pardes Akkadian : Pardesu
Aramaic : Pardaysa Sanskrit : Paradesha
Arabic : Firdaus
پیراڈائز (جنت) کا تصور انسانی فطرت میںاتنا زیادہ پیوست ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جُدا نہیں کیا جاسکتا۔ پیراڈائز کو پانا، ہر عورت اور مرد کا مشترک خواب ہے، خواہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر عورت اور مرد نے عالمِ تصور میں ایک انتہائی خوب صورت دنیا کو پہلے سے دیکھا ہے، اور اب وہ اِس دیکھی ہوئی جنت کو عملی طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انسان کی اِس خواہش کے تحت، پیراڈائز کے تقریباً ایک درجن ماڈل بن گئے ہیں۔ ہر انسان اپنے اِس معلوم ماڈل کو واقعاتی طورپر حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔
پیراڈائز کا مطالعہ میری پوری زندگی میں شامل رہا ہے۔ تاریخ میں پیراڈائز کے جتنے ماڈل بنائے گئے ہیں، تقریباً اُن سب کو میںنے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے طویل مطالعے اور تجربے کے بعد پایا ہے کہ پیراڈائز کا صرف وہی ماڈل مطابقِ فطرت ماڈل ہے جو قرآن میں ملتا ہے۔ بقیہ تمام ماڈل یا تو فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے، یا وہ صرف جزئی طورپر فطرت کے مطابق ہیں۔ اور یہ دونوں حالتیں اُن کو ناقابلِ قبول قرار دے دیتی ہیں۔
اِس فہرست میں صرف قرآن کا ماڈل واحد قابلِ قبول ماڈل ہے۔ اِسی لیے قرآن میں سچے انسانوں کی بابت یہ ارشاد ہوا ہے کہ خدا اُن کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کی اُس نے اُنھیں خوب پہچان کرادی ہے: ویُدخلہم الجنّۃ عرّفہا لہم (47: 6) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت کے معروف ماڈلوں میں سے کون سا ماڈل درست ہے، اس کا معیار وہی اصول ہے جس کو اِس طرح کے معاملات میں سائنس میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی اصولِ مطابقت (principle of corroboration)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نظریے کی صحت کو معلوم کرنے کے لیے یہ کیا جائے گا کہ اُس کو تمام متعلق(relevant) واقعات یا مظاہر کی نسبت سے جانچا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ تمام متعلق چیزوں سے مطابقت (corroborate) کررہا ہو تو اس کو درست مان لیا جائے گا اور اگر کوئی ایک واقعہ بھی اس نظریے سے مطابق نہ کرے تو اس نظریے کو غلط قرار دے کر اُس کو رد کر دیا جائے گا۔
یہی واحد اصول ہے جس کی روشنی میں پیراڈائز کے مختلف تصورات کا مطالعہ کرکے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اُن میں سے کون سا نظریہ درست نظریہ ہے۔ذیل میںاِسی اصول کی روشنی میں پیراڈائز کے مختلف ماڈلوں کا مطالعہ کیا جاتاہے۔ اِس مطالعے سے واضح ہوجائے گا کہ سائنٹفک طریقِ مطالعہ کے مطابق، اِن میں سے کون سا ماڈل علمی طورپر قابلِ قبول ماڈل ہے۔
سب سے پہلے بُدھسٹ ماڈل (Buddhist model) کو لیجئے۔ بدھ ازم میں اگرچہ مہایانا (Mahayana) اسکول کو چھوڑ کر، بقیہ کسی اسکول میں پیراڈائز کا لفظ استعمال نہیں کیاجاتا ہے۔ لیکن اصولی طور پر بدھ ازم میں پیراڈائز کا تصور موجود ہے۔ بدھ ازم کے نظریے کے مطابق، انسان پُنر جنم (re-birth) کے ذریعے لمبا ارتقائی سفر کرتا ہے۔اِس ارتقائی سفر کے دوران وہ ہر قسم کی خواہشوں سے مکت ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ انسانی ارتقا کی آخری منزل پر پہنچ جاتا ہے، جو بدھسٹ نظریے کے مطابق، ابدی سعادت (eternal bliss) کی منزل ہے۔
مگر یہ بدھسٹ ماڈل واضح طور پر انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔ انسان ایک باشعور مخلوق ہے۔ انسان کے لیے اعلیٰ یافت وہی ہوسکتی ہے جو شعور کی سطح پر اُس کو ملے، لیکن بدھسٹ ماڈل میں لاکھوں سال کا پورا سفر، اور آخری منزل سب بے شعوری کی حالت میں طے ہوتے ہیں۔ انسان نہ تو حالتِ سفر میں شعوری طورپر اِس عمل (process) سے باخبر رہتا ہے اور نہ وہ سفر کے خاتمے پر شعوری طورپر اس کا تجربہ کرتاہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بدھسٹ ماڈل انسان کے لیے ناخوش گوار باتوں سے بے خبری کا سُکھ (blissful ignorance) ہے، وہ انسان کے لیے حقیقی معنوں میں مطلوب سعادت نہیں۔
اس کے بعد یہودی ماڈل (Jewish model) کو لیجئے۔ اِس ماڈل میں اگر چہ پیراڈائز کا تصور موجود ہے، لیکن اس کا نقص یہ ہے کہ موجودہ یہودیت کے مطابق، اس کی بنیاد ایک مخصوص نسل پر رکھی گئی ہے۔ موجودہ یہود یت کا ماننا ہے کہ یہودی نسل ایک منتخب گروہ (chosen people) کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی منتخب گروہ پیراڈائز کا حق دار ہے۔ یہ تصور انسان کی آفاقی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اِس لیے علمی اعتبار سے وہ درست نہیں قرار پاسکتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی معاملہ کرسچن ماڈل (Christian model) کا ہے۔ موجودہ مسیحیت میں پیراڈائز کے وجود کو مانا گیا ہے۔ لیکن موجودہ مسیحیت کے مطابق، پیراڈائز کا استحقاق عقیدۂ کفّارہ (atonement) سے جڑا ہوا ہے، یعنی آدمی کی خطا کے بعد تمام انسان پیدائشی طورپر گنہ گار اور پیراڈائز سے محروم ہوچکے ہیں۔ اب پیراڈائز صرف ان عورتوں اور مردوں کے لیے ہے، جو اِس عقیدے کو مانیں کہ مسیح مصلوب ہو کر اُن کی طرف سے ان کے تمام گناہوں کا کفّارہ بن گئے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ مسیحیت کا یہ تصور بھی انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پیدائشی گناہ (original sin) کا نظریہ ایک فلسفیانہ نکتہ تو ہوسکتا ہے، لیکن وہ انسان کی فطرت کے اعتبار سے بالکل اجنبی ہے۔ انسان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ جو شخص کوئی بُرا عمل کرے، وہی اپنے عمل کی سزا بھگتے۔ گناہ کوئی اور شخص کرے اور اس کی گنہ گاری پیدائشی طور پر کسی اور شخص تک پہنچ جائے، یہ وراثتی گنہ گاری (hereditary sin) ہے۔ اور ورثتی گنہ گاری کا نظریہ انسانی فطرت سے ہر گز مطابقت نہیں رکھتا۔
تہذیبی ماڈل
اِسی طرح ایک ماڈل وہ ہے جس کو تہذیبی ماڈل (civilizational model) کہاجاسکتا ہے۔ تہذیب (civilization) سے مراد ہے — سماجی ترقی کا برتر مرحلہ:
An advanced stage or system of social development.
موجودہ زمانے میں جب تہذیبی ترقی یہاں تک پہنچی کہ نئی قسم کی ٹکنالوجی اور نئی قسم کی ترقی انسان کی دست رس میں آگئی، تو یہ سمجھا جانے لگا کہ اب پیراڈائز کے لیے ایک اور دنیا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب اِسی دنیا میں انسان اپنی پیراڈائز آپ بنا سکتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان اب اِس پوزیشن میں ہوگیا ہے کہ وہ اپنی پیراڈائز آپ بنا سکے۔ لیکن جلد ہی یہ خواب منتشر ہوگیا۔ بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں پہنچ کر یہ معلوم ہوا کہ پیراڈائز کو تعمیر کرنے والی انڈسٹری اپنے آخری اسٹیج میں پہنچ کر ایک نئے قسم کا جہنم وجود میں لانے کا سبب بن رہی ہے۔ اس نئے جہنم کا نام موجودہ زمانے میں گرین ہاؤس گیس (green house gas) ہے، یعنی دنیا کا ایسی مضر گیسوں سے بھر جانا جس میں انسان کی زندگی ہی ممکن نہ رہے۔
اِس تجربے نے بتایا کہ پیراڈائز کو وجود میں لانے کے لیے بے کثافت انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور تمام تجربات بتاتے ہیں کہ بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانا انسان کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس طرح تہذیبی جنت (civilization paradise) کا نظریہ، پیراڈائز کو وجود میں لانے سے پہلے ہی اپنی آخری ناکامی کے ساتھ ختم ہوگیا۔
بھلاوہ کلچر
پیراڈائز کے معاملے میں ایک اور قسم کا تصور بہت اہم ہے۔ اس کو تمثیل کی زبان میں آسٹرچ پیراڈائز (ostrich paradise) کہاجاسکتاہے۔ یہ اُن لوگوں کا تصور ہے جن کے سامنے پیراڈائز کی بات کہی جائے تو وہ اپنا یہ فارمولاپیش کردیں گے— آج کی بات آج، کل کی بات کل۔ اُن کا کہنا ہے کہ ابھی اور آج جو کچھ مل رہاہے، اُس کو حاصل کرو۔ ایک لفظ میں اُن کا فارمولا یہ ہے:
right here, right now
ان کی زندگی اِس نظریے پر مبنی ہے کہ— محنت سے پیسہ کماؤ اور عیش کی زندگی گزارو:
work, hard, party hard
اِس نظریے کی صحت کو جانچنے کے لیے ہمیں اس کو نتیجہ (result) کے نقطۂ نظر سے دیکھنا ہوگا، اور جب نتیجے کے پہلو سے اِس نظریے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔ جولوگ اِس قسم کے الفاظ بولتے ہیں، وہ خود اِس کا مثبت نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ بظاہر یہ خوب صورت الفاظ ہر ایک کے لیے صرف منفی نتیجہ لے کر سامنے آئے ہیں۔
اِس قسم کے لوگ زیادہ پیسہ کماتے ہیں، مگر زیادہ پیسہ صرف ان کے لائف اسٹائل اور ان کی غذائی عادت (food habit) کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں شوگر، بلڈ پریشر اور کینسر جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ زیادہ پیسہ کما کر یہ لوگ اپنا اسٹریس (stress) دور کرنے کے لیے آؤٹنگ پر جاتے ہیں، لیکن جب وہ اپنی آؤٹنگ سے لوٹتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیا مسئلہ ہالی ڈے اسٹریس (holiday stress) کی صورت میں لے کر واپس آئے ہیں۔
زیادہ پیسہ کما کر وہ اپنی شاپنگ کو بڑھاتے ہیں، لیکن اُس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سطحی چیزوں میں اپنی مشغولیت کی وجہ سے اُس چیز سے محروم ہوجاتے ہیں، جس کو اعلیٰ سوچ (high thinking) کہاجاتاہے۔ زیادہ پیسہ کما کر وہ لَو افئر (love affair) کا کلچر چلاتے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ برعکس طورپر ہیٹ افئر (hate affair) کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے لوگ فیملی لائف کی خوشی سے یک سر محروم ہو کر رہ جاتے ہیں، وغیرہ۔
بالفرض اِس قسم کا کوئی انسان اپنے نظریے کے منفی انجام سے بچ جائے، تب بھی یہ واقعہ تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لازمی طور پر پیش آتا ہے کہ وہ سو سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی بوڑھا ہو کر بستر پر پڑجاتا ہے اور اس کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اسپتال میں داخل ہوجائے اور پھر اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک دن اِس دنیا سے چلا جائے۔
اِس کی ایک مثال 12 جنوری 2008 کے اخبارات میں سامنے آئی ہے۔ نیوزی لینڈ کے سرایڈمنڈ ہیلیری نہایت طاقت ور انسان تھے۔ جب وہ کوہ پیمائی کرتے ہوئے دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ایورسٹ (Everest) پر پہنچ گئے تو ساری دنیا کے اخباروں میں بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ یہ خبر چھپی۔ وہ فاتحِ ایورسٹ کہے جانے لگے۔ جب انھوںنے ایورسٹ کی چوٹی پر قدم رکھا تھا تو اس وقت اُن کی زبان سے یہ پُر فخر الفاظ نکلے تھے:
To my great delight, I realized we were on top of Mount Everest and the whole world spread out below us. (The Times of India, New Delhi, January 12, 2008, p. 12)
لیکن 11 جنوری 2008 کو جب 88 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا تو وہ اسپتال کے بستر پر ایک نہایت کم زور انسان کی حیثیت سے پڑے ہوئے تھے اور ان کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب(option) نہ تھا کہ موت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے وہ اپنے تمام اثاثے اور اپنی تمام تمناؤں کے ساتھ اِس دنیا کو چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں چلے جائیں، جس کا سامنا کرنے کے لیے اُن کے پاس بظاہر کچھ بھی موجود نہ تھا۔
قرآنی ماڈل
اب پیراڈائز کے بارے میں قرآنی ماڈل (Quranic model) کو لیجئے۔ اِس معاملے میں قرآن کا ماڈل، خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) پر مبنی ہے۔ قرآن کے مطابق، خداوندِ عالم کا تخلیقی پلان اور پیراڈائز دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح جُڑے ہوئے ہیں۔ اِسی لیے قرآن کے مطابق، پیراڈائز کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خداوندِ عالم کے تخلیقی پلان کی روشنی میں سمجھا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن، خدا کی کتاب ہے۔ وہ پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ قرآن کے مطابق، خدا نے انسان کو بنایا اور اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا۔ یہ آباد کاری بطور امتحان تھی، نہ کہ بطور انعام، یعنی یہ آبادکاری اِس لیے تھی کہ دنیا کی عارضی زندگی میں انسان اپنے آپ کو پیراڈائز کا اہل ثابت کرے اور پھر موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں اس کو اس کے عمل کے مطابق، پیراڈائز میں بسایا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس اعتبار سے موجودہ دنیا گویا کہ ایک انتخابی میدان(selection ground)ہے۔ یہاں آدمی کو مختلف قسم کے احوال میں رکھ کر جانچا جارہا ہے کہ کون اپنے عمل سے اِس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے۔ جو لوگ اِس جانچ میں پورے اتریں، ان کو منتخب کرکے جنت کی ابدی دنیا میں داخل کردیا جائے گا۔ اور جو لوگ اِس جانچ میں ناکام ہوگئے، اُن کو ابدی طورپر کائنات کے کوڑے خانے (جہنم) میں ڈال دیا جائے گا۔
قرآن کے مطابق، یہ جنت ابدی ہوگی اور اِسی کے ساتھ ایک معیاری اور آئڈیل جنت۔ یہاں یہ ممکن ہوگا کہ انسان ہر قسم کے خوف اور ہر قسم کے حزن سے بچ کر زندگی گزارے۔ جنت کی یہ دنیاہر قسم کے ناموافق حالات (disadvantages) اور ہر قسم کی محدودیت (limitations) سے خالی ہوگی۔ یہاں انسان وہ سب کچھ پالے گا جس کی تمنا وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جنت کی اِس دنیا میںآدمی کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں گی۔یہاں اُس کو مکمل فلفل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ موجودہ دنیا میں بھی اگر چہ تمام اچھی چیزیں موجود ہیں، لیکن یہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے، جب کہ جنت کی دنیا ہر اعتبار سے ایک معیاری دنیا (perfect world) ہوگی۔ جنت کی دنیا میں نہ شور ہوگا اور نہ کسی قسم کی کثافت۔ یہ دنیا ہر قسم کی منفی باتوں سے خالی ہوگی۔موجودہ دنیا ایک ناقص دنیا ہے، اور جنت ایک کامل دنیا ہوگی۔ اور کسی معاملے میں ناقص نمونے کا وجود میںآنا، اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کامل نمونہ بھی وجود میں آسکتا ہے۔ یہی ہے جنت کا قرآنی ماڈل۔ یہ ماڈل بلا شبہہ فطرت کے تقاضے سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ وہ تمام متعلق مظاہر سے مطابقت (corroborate) کر رہا ہے۔
پیراڈائز کے قرآنی ماڈل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اُس میں آدمی کامل شعور کے ساتھ اور اپنے مائنڈ کی اعلیٰ ترقیاتی سطح پرجئے گا۔ یہ جنت انسان کے لیے نہ کوئی محدود دنیا ہوگی اور نہ ایسا ہوگا کہ وہ شعور سے کم تر کسی سطح پر اُس کو حاصل ہوگی۔
پیراڈائز کے بارے میں قرآنی ماڈل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ کوئی پراسرار (mysterious) جگہ نہیں ہوگی، بلکہ وہ ہماری دنیا جیسی ایک جگہ ہوگی۔ قرآن میںواضح طورپر بتایا گیاہے کہ جنت میں وہ تمام اچھی چیزیں اہلِ جنت کو ملیں گی، جو اُنھیں دنیا کی زندگی میں ملی تھیں، مگر یہ تمام چیزیں نہایت اعلیٰ صورت میں ہوں گی۔ اِسی طرح جنت میں اس کے باشندوں کو ہر قسم کی سرگرمیوں کا موقع ہوگا، مگر یہ سرگرمیاں اوّل سے آخر تک پُرکیف ہوں گی۔ وہاں نہ کوئی بورڈم ہوگا اور نہ کوئی تکان۔ مزید یہ کہ دنیا میں آدمی چیزوں سے محظوظ ہونے کی بہت کم طاقت رکھتاہے۔جنت میں ایسا ہوگا کہ وہاں کے باشندوں کو چیزوں سے انجوائے کرنے کی لامحدود طاقت حاصل ہوگی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ پیراڈائز کے قرآنی ماڈل میںانسان، خدا کے پڑوس میں رہنے کا موقع پالے گا، جو کہ ہر قسم کی خوبیوں اور ہر قسم کے کمالات کا اتھاہ خزانہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it