سی پی ایس (نئی دہلی) کی ایک خاتون ممبر مز نغمہ صدیقی نے جون 2011 میں دہلی سے امریکا کا سفر کیا۔ جہاز میں ان کی ملاقات ایک تعلیم یافتہ مسیحی شخص سے ہوئی۔ نغمہ صدیقی نے اُن کے سامنے سادہ اور پُرامن اندازمیں اسلام کا تعارف پیش کیا۔ گفتگو کے بعد مذکورہ مسیحی شخص نے کہا — تمھاری بات مسلمان جیسی بات نہیں ہے، بلکہ تمھاری بات ایک مسیحی جیسی بات ہے:
You don’t talk like a Muslim. You talk like a Christian.
مذکورہ مسیحی نے ایسا کیوں کہا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ اب تک وہ جن مسلمانوں سے ملا تھا، وہ اسلام کو سیاسی انداز میں پیش کرتے تھے۔ وہ شکایت کی بولی بولتے تھے۔ وہ مسلمانوں کے تشدد کو ظلم کے خلاف جہاد بتا کر اُس کو درست قرار دیتے تھے۔ اِس کے برعکس، نغمہ صدیقی نے جو بات کی، وہ تمام ترمثبت انداز میں تھی، وہ کسی بھی قسم کے منفی جذبے سے خالی مکمل طورپر تھی۔ یہ مذکورہ مسیحی کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ اِسی احساس کے تحت اُس نے مذکورہ جملہ کہا۔
موجودہ زمانے میں اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ امیج (image) کا مسئلہ ہے۔ مسلمان قومی سرگرمیوں میں مشغول ہیں اور وہ اس کو اسلام کا نام دئے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی اِس غلط روش نے ساری دنیا میں اسلام کی تصویر بگاڑ دی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اس روش کو بدلیں، ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی سخت پکڑ میں آجائیں گے۔
قومی سیاست اور تشدد اپنے آپ میں بھی غلط ہے، اور جب قومی سیاست کو اسلامی سیاست کہاجائے اور تشدد کو اسلامی جہاد بتایا جائے تو غلطی صرف غلطی نہیں رہتی، بلکہ وہ سرکشی کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوںکا کیس صرف غلطی کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ سرکشی کا کیس ہے۔ یہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا منکر ہے اور اِس منکَر کا انکار بلاشبہہ مسلم رہنماؤں کے لیے سب سے بڑے فریضے کی حیثیت رکھتاہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔