قرآن کی سورہ الواقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ جنت کے دو بڑے طبقے ہوں گے۔ ایک، السابقون (سبقت کرنے والے) اور دوسرے، اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) پہلے گروہ کے لیے آخرت میں شاہانہ انعامات ہیں، اور دوسرے گروہ کے لیے عام انعامات (56: 10-27) ۔
درجہ اول اور درجہ دوم میں، یہ فرق کس بنیاد پر ہوگا۔ قرآن کے مطابق، اس کی وجہ فتح (57: 10) ہے۔ جو لوگ فتح سے پہلے کے دور میں حق کو مانیں اور اس کا ساتھ دیں، وہ السابقون کا درجہ پائیں گے۔ اور جو لوگ فتح کے بعد کے دور میں حق کو قبول کریں اور اس کے ساتھی بنیں، وہ اصحاب الیمین کے گروہ میں جگہ پائیں گے۔ یہ محض زمانے کا فرق نہیں، بلکہ نوعیتِ ایمان کا فرق ہے۔
حق جب ظاہر ہوتا ہے تو ابتداء ً وہ مجرّد صورت میں ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک ایسی نظری حقیقت کی ہوتی ہے جس کی پشت پر دلائل کی طاقت کے سوا کوئی اور طاقت موجود نہ ہو۔ بعد کے زمانے میں جب حق کی دعوت فتح و غلبہ کے مرحلے میں داخل ہوجاتی ہے تو اُس وقت حق کی حیثیت صرف نظری صداقت کی نہیں ہوتی، اب ہر آنکھ والے کو حق ایک ٹھوس واقعہ کی صورت میں دکھائی دینے لگتا ہے۔
پہلے دور میں حق کو لفظی دلیل سے پہچاننا تھا، دوسرے دور میں حق کی اہمیت کو منوانے کے لیے کھلے ہوئے واقعات موجود ہوتے ہیں۔ پہلے دور میں حق کو مانتے ہی آدمی اپنے ماحول کے اندر اجنبی بن جاتا تھا، دوسرے دور میں حق کے ساتھ وابستہ ہونا آدمی کو عزت اور مقبولیت کا مقام دیتا ہے۔ پہلے دور میں حق کا ساتھ دینے والا صرف کھوتا ہے، دوسرے دور میں حق کا ساتھ مزید پانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پہلے دور میں بنیاد کے نیچے دفن ہونا پڑا تھا، دوسرے دور میں گنبد کی بلندیاں مل جاتی ہیں جن کے اوپر آدمی کھڑا ہوسکے۔ معرفت کا یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر پہلے مرحلے میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجۂ اول کا مقام ہے اور دوسرے مرحلے میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجۂ ثانی کا مقام۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔