Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala december 2009
Al-Risala december 2009

خاتمہ

Urdu · 2 min read

ہسٹری آف تھاٹ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ افکار کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک قبل سائنس دور (pre-scientific era) اور دوسرا ،بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں لوگوں کو اشیا کی حقیقت معلوم نہ تھی، اس لیے محض قیاس آرائی کے تحت چیزوں کے بارے میں رائے قائم کرلی گئی۔ اس لیے قبل سائنس دور کو توہماتی دور (age of superstition) کہاجاتا ہے۔ مذکورہ اعتراض دراصل اسی قدیم دور کی ایک یادگار ہے۔ یہ اعتراض دراصل توہماتی افکار کی کنڈیشننگ کے تحت پیدا ہوا، جو روایتی طورپر اب تک چلا جارہا ہے۔

قدیم توہماتی دور میں بہت سے ایسے خیالات رائج ہوگئے جو حقیقت کے اعتبار سے بے بنیاد تھے۔ سائنسی دور آنے کے بعد ان خیالات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ مثلاً شمسی نظام کے بارے میں قدیم جیوسنٹرک (geocentric) تھیوری ختم ہوگئی اور اس کی جگہ ہیلیو سنٹرک (heliocentric) تھیوری آگئی۔ اسی طرح ماڈرن کیمسٹری کے ظہور کے بعد قدیم آلکیمی ختم ہوگئی۔ اسی طرح ماڈرن ایسٹرانمی کے ظہور کے بعد قدیم اسٹرالوجی (astrology)کا خاتمہ ہوگیا، وغیرہ۔ مذکورہ اعتراض بھی اسی نوعیت کا ایک اعتراض ہے، اور اب یقینی طورپر اس کا خاتمہ ہوجانا چاہیے۔

گلیلیو سترھویںصدی عیسوی کا اٹیلین سائنٹسٹ تھا۔ اس نے قدیم ٹالمی کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ زمین شمسی نظام کے سنٹر میں نہیں ہے، بلکہ زمین ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد مسلسل گھوم رہا ہے۔ یہ نظریہ مسیحی چرچ کے عقیدہ کے خلاف تھا۔ اس وقت مسیحی چرچ کو پورے یورپ میں غلبہ حاصل تھا۔ چناںچہ مسیحی عدالت (inquisition) میں گلیلیو کو بلایا گیا اور سماعت کرنے کے بعد اس کو سخت سزا دی گئی۔ بعد کو اس کی سزا میں تخفیف کرکے اس کو اپنے گھر میں نظر بند (house arrest) کردیاگیا۔ گلیلیو اسی حال میں 8 سال تک رہا، یہاں تک کہ 1642ء میں وہ اندھا ہوکر مر گیا۔

اس واقعہ کے تقریباً 400 سال بعد مسیحی چرچ نے اپنے عقیدہ پر نظر ثانی کی۔ اس کو محسوس ہوا کہ گلیلیو کانظریہ صحیح تھا، اور مسیحی چرچ کا عقیدہ غلط تھا۔ اس کے بعد مسیحی چرچ نے سائنٹفک کمیونٹی سے معافی مانگی اور اپنی غلطی کا اعلان کردیا۔ یہی کام ان لوگوں کو کرنا چاہیے جو غلو آمیز ویجیٹیرین ازم (extremist vegetarianism) کے وکیل بنے ہوئے ہیں۔ یہ نظریہ اب سائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں غلط ثابت ہوچکا ہے۔ اب ان حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے سابق نظریہ سے رجوع کرلیں، ورنہ ان کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ سائنسی دور میں بھی توہم پرست (superstitious)بنے ہوئے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.