Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2007
Al-Risala December 2007

غیر فطری تمنّا

Urdu · 2 min read

مشہور ہندستانی سِنگر محمد رفیع (وفات: 1980 ) کا ایک گانا اتنامقبول ہوا کہ وہ ہر ماں باپ کے دل کی دھڑکن بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع نے جب اِس کو گایاتو وہ شدتِ تاثّر سے روپڑے۔ اِس گانے میں باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ اشعار کہتا ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے:

بابُل کی دعائیں لیتی جا جا، تجھ کو ُ سکھی سنسار ملے

میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے

یہ بات فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی لڑکے یا لڑکی کو اِس طرح ’’سکھ اور پیار‘‘ نہیںمل سکتا۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کے سُکھ اور پیار کو زوجین کے لیے کامیاب زندگی کا معیار بتانا، زوجین کے ساتھ نا انصافی ہے۔ کیوںکہ اس کے نتیجے میں دونوں کے اندر غیرحقیقت پسندانہ ذہن بنتا ہے۔ اور غیر حقیقت پسندانہ ذہن کے ساتھ اِس دنیا میں کامیاب اِزدواجی زندگی گزارنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

اِس غیر فطری معیار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ والدین اور ان کی بیٹی دونوں ہمیشہ اِس احساس میں جیتے ہیںکہ ان کی لڑکی کی شادی غلط ہوگئی۔ دونوں اسی منفی احساس میںجیتے ہیں اور اِسی منفی احساس میں مرجاتے ہیں۔ اگرلوگ زندگی کی حقیقت کو جانیں تو والدین اپنی بیٹی کے بارے میں غیر فطری تمنا کرنے کے بجائے، اُس کو نیے دورِ حیات کے لیے تیار کریں اور خود لڑکی جب نیے حالات میں پہنچے تو وہ اس کو مثبت ذہن کے ساتھ لے۔ وہ نیے حالات کو اپنے لیے فطرت کا ایک چیلنج سمجھے اور اپنی خداداد صلاحیتوں کو استعمال کرکے نیے حالات میںاپنے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر کرلے۔

زندگی ایک چیلنج ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔ جو لوگ اِس حقیقت کو جانیں، وہ چیلنج کو ترقی کا ایک زینہ سمجھیں گے اور اُس پر چڑھتے ہوئے اعلیٰ مراتبِ حیات تک پہنچ جائیں گے۔ سُکھ مادّی راحت کا نام نہیں۔ سکھ یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے مطابقت کا راز جان لے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.