Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2007
Al-Risala December 2007

غصے پر کنٹرول کیجیے

Urdu · 2 min read

عورت اور مرد کے درمیان بگاڑ کا سب سے بڑا سبب غصہ ہوتا ہے۔ کسی معاملے میں ایک کو دوسرے کے اوپر غصہ آجاتا ہے۔ اس کے بعد دونوں میں تکرار ہوتی ہے۔ یہ تکرار آخر کار نفرت میں بدل جاتی ہے، او رپھر یہ نفرت مختلف قسم کی برائیوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ باہمی زندگی میں ننانوے فی صد بگاڑ غصے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ غصہ ایک فطری جذبہ ہے، غصے کا حل غصے کو کنٹرول کرنا ہے۔ غصہ خود کوئی بُری چیز نہیں، بُری چیز صرف یہ ہے کہ غصے کو کنٹرول نہ کرکے اُس کو مزید برائی تک پہنچنے دیا جائے۔

نفسیاتی اعتبار سے غصہ صرف ایک وقتی اشتعال کا معاملہ ہے۔اشتعال ایک غیر معتدل حالت کا نام ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو وقتی طورپر بھڑکتی ہے اور اس کے بعد بہت جلد وہ بجھ جاتی ہے، بشرطیکہ اس کو مزید بھڑکایا نہ جائے۔ آدمی اگر اِس حقیقت کو جانے تو اُس کا غصہ کبھی کسی مستقل فساد کا سبب نہ بنے۔

غصہ گویا ایک نفسیاتی آگ ہے۔ غصہ اچانک کسی بات پر بھڑک اٹھتا ہے، لیکن نفسیاتی اعتبار سے غصے کی زندگی صرف تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے۔ غصہ آنے کے وقت اگر آپ چپ رہیں اور اس کا جواب دینے کے بجائے غصے کے مقام سے ہٹ جائیں تو بہت جلد آپ دیکھیں گے کہ آپ کا غصہ اندر ہی اندر ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ اب آپ اُسی طرح ایک نارمل انسان بن گیے ہیں، جیسا کہ آپ غصے سے پہلے ایک نارمل انسان تھے۔

غصے کا فطری اصول یہ ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے بھڑکتا ہے اور پھر اپنے آپ بجھنا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر غصہ کرنے والا فوری طور پر خاموشی اختیار کرلے اور اپنے ذہن کو دوسری طرف موڑ دے تو اس کے بعد ابتدائی محرّک ختم ہوجائے گا اور رفتہ رفتہ اپنے آپ معمول کی حالت قائم ہوجائے گی۔

اپنے غصے کو چند لمحوں کے لیے تک سنبھالیے، اس کے بعد غصے کوحرکت دینے والا عنصر اپنے آپ کم زور پڑجائے گا اور جلد ہی ایسا ہوگا کہ غصے کی آگ بجھ جائے گی اور اپنے آپ معمول کی حالت قائم ہوجائے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.