Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2007
Al-Risala December 2007

ایک شادی یا کئی شادی

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر چار میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ ایک آدمی چار خواتین سے نکاح کرسکتا ہے (النساء: 3 ) اِس کا مطلب یہ نہیں کہ چار نکاح کرنے کی کھُلی اجازت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک استثنائی حکم ہے، نہ کہ عمومی حکم۔ عام حکم تو یہی ہے کہ ایک آدمی صرف ایک نکاح کرے، لیکن جب کوئی حقیقی ضرورت پیش آجائے، اُس وقت ایک آدمی ایک سے زیادہ نکاح کرسکتا ہے، یعنی دو یا تین یا چار۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ضرورت اصلاً صرف ایک وجہ سے پیش آتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ کسی حادثے کی بنا پر معاشرے میں عورتوں کی تعداد زیادہ (surplus) ہوجائے اور مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں کم ہوجائے۔ ایسی حالت میں ایک نکاح کے اصول کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ سماج میںبہت سی عورتیں شوہر کے بغیر رہ جائیں۔

کسی سماج میں عورتیں جب مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوجائیں تو یہ ایک نازک موقع ہوتا ہے۔ اُس وقت انتخاب (choice) ایک نکاح اور کئی نکاح کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ انتخاب ایک نکاح اور صنفی انارکی کے درمیان ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں معاشرے کو صنفی انارکی سے بچانے کے لیے اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں ہوتی کہ تعدّدِ اَزواج کے اصول کو اختیار کرلیاجائے اور ایک مرد کو کئی نکاح کی اجازت دے دی جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ نکاح کا فطری طریقہ یہی ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد۔ عورت کے اندر فطری طورپر سوکن کے خلاف منفی جذبات ہوتے ہیں۔ یہی واقعہ اِس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ یک زوجیت(monogamy) کا طریقہ ہی فطری طریقہ ہے۔ اور تعددِ زوجیت (polygamy) کا طریقہ ایک استثنائی اجازت ہے، جو قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت روا رکھا گیاہے۔ اِس قسم کا استثنائی قانون زندگی کے ہر معاملے میں ہوتاہے، مگر استثنائی قانون صرف ایک استثنائی قانون ہے، اس کو عمومی قانون کا درجہ نہیں دیاجاسکتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content