Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2007
Al-Risala December 2007

ہر حال میں خیر

Urdu · 2 min read

شوہر اور بیوی کے درمیان بہتر تعلق کی تعلیم دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وعاشروہن بالمعروف فإن کرہتموہن فعسی أن تکرہوا شیئاً ویجعل اللہ فیہ خیراً کثیراً (النساء: 19 ) یعنی عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گز ر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُس میں تمھارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے شوہر اور بیوی دونوں ہی کے لیے ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسنِ معاشرت یا بہتر ازدواجی زندگی کا انحصار اِس پر نہیں ہے کہ شوہر کو بالکل اپنی پسند کی بیوی مل جائے، یا بیوی کو بالکل اپنی پسند کے مطابق شوہر مل جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز پسند کے خلاف زَوج(spouse) کے ساتھ موافقت (adjustment) کرنا ہے، ناپسندیدگی میں پسند کا پہلو تلاش کرلینا ہے۔

عورت اور مرد عام طورپر ایک مشترک مسئلے سے دوچار رہتے ہیں۔ ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ اُس کو جو ساتھی ملا ہے، یا اُس کو جو زندگی ملی ہے، وہ اس کے مطلوب سے کم ہے۔ اپنی حاصل شدہ زندگی سے غیر مطمئن ہو کر ہر آدمی ایک اور مفروضہ زندگی کی تلاش میں رہتا ہے۔ یہ تصور انتہائی حد تک غیرحقیقت پسندانہ ہے۔ کوئی عورت یا مرد جس مفروضہ زندگی کو اپنے ذہن میں لیے ہوئے ہے، وہ مفروضہ زندگی اگر بالفرض اس کو مل جائے تب بھی وہ بدستور غیر مطمئن ہی رہے گا۔

یاد رکھیے، خوش گوار زندگی خود آپ کے ذہن میں ہے۔ آپ کے ذہن سے باہر کسی خوش گوار زندگی کا کوئی وجود نہیں۔ سوچنے کا ہنر (art of thinking) سیکھیے، اور پھر ہر زندگی آپ کے لیے آپ کی پسند کی زندگی بن جائے گی۔ خوش گوار زندگی کی تعمیر آدمی اپنے آپ کرتا ہے۔ کوئی دوسرا نہیں جو آپ کو خوش گوار زندگی کا تحفہ اپنی طرف سے پیش کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content