Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala December 2004
Al-Risala December 2004

قولِ زور، عملِ زور

Urdu · 2 min read

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من لم یدع قول الزور والعمل بہ، فلیس للہ حاجۃ فی أن یدع طعامہ وشرابہ(صحیح البخاری، کتاب الصوم، رقم الحدیث ۱۹۰۳) یعنی جس شخص نے روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

روزہ بظاہر اس کا نام ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ مگر یہ روزہ کی ظاہری صورت ہے، اور صرف ظاہری صورت کا نام روزہ نہیں۔ مطلوب روزہ وہ ہے جس میں ظاہری صورت کے ساتھ اس کی داخلی روح بھی پائی جائے۔ یہ داخلی روح یا صوم اسپرٹ ہی کسی کے روزہ کو حقیقی روزہ بناتی ہے۔ روزہ رکھ کر کوئی شخص قول زور اور عمل زور میں مبتلا ہو تو اس کا روزہ روزہ نہیں۔

قول زور یا جھوٹ بولنا یہ ہے کہ آدمی کھلے طورپر خلاف واقعہ بات کہے۔ مثلاً وہ اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کرے اور کہے کہ میںتو اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہوں۔ اس روش کو کذب یا براہ راست جھوٹ بولنا کہہ سکتے ہیں۔

عمل زور یا جھوٹ پر عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی اپنے کام کی جھوٹی تاویل کرے۔ یعنی غلط کام کرنا اور اس کے لیے جھوٹا جواز پیش کرنا(Doing wrong under false justification.)۔

سیدھے طورپر جھوٹ بولنا بلا شبہہ برا ہے۔ مگر یہ بھی جھوٹ کی ایک قسم ہے کہ آدمی ایک برا کام کرے اور اس کو ایک خوبصورت نام دے۔ مثلاً مادی مقصد کے تحت ایک کام کرنا اور اس کو خدمتِ دین بتانا۔عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایک کام کرنا اور اس کو دعوت کا عنوان دینا۔ دولت حاصل کرنے کے لیے ایک کام کرنا اور اس کو ملّی یا سماجی کام بتانا۔ لیڈری حاصل کرنے کے لیے ایک کام کرنا اور اس کو اصلاح کا نام دینا، وغیرہ۔ جھوٹ بولنا اور خوبصورت الفاظ کے پردہ میں جھوٹا کام کرنا دونوں یکساں طورپر ناقابل معافی جرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content