← Al-Risala December 2003Al-Risala December 2003
دار الاسلام، دار الحرب
Urdu · 6 min read
دار الاسلام اور دار الحرب کی اصطلاح زمانہ نبوت کے ڈیڑھ سو سال بعد عباسی دور میں بنی۔ یہ الفاظ قرآن اور حدیث میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ یہ دونوں اصطلاحیں مبتدعانہ اصطلاحیں تھیں۔ ان کو قرآنی اصطلاح یا مسنون اصطلاح نہیں کہا جاسکتا۔
فقہاء کے نزدیک دار الاسلام سے مراد وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کو اسلام پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ دار الحرب سے مراد وہ ملک ہے جو مسلمانوں کے لیے معاند ملک کی حیثیت رکھتا ہو، جس سے مسلمان امکانی طورپر جنگ (potentially at war) کی حالت میں ہوں۔ یہ دونوں اصطلاحیں ذاتی قیاس کے تحت بنائی گئیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ اتنی اہم اصطلاح خالص قرآن کی روشنی میں بنائی جائے۔
اس نظر سے قرآن کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ دو قسم کے علاقوں کے اس فرق کو بتانے کے لیے زیادہ درست الفاظ دوسرے ہیں۔ اور وہ دارالخوف اور دار الامن کے الفاظ ہیں۔ اس رائے کا مأخذ قرآن کی وہ آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا جس کو اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کی خوف کی حالت کے بعد اس کو امن کی حالت سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی بھی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔ (النور۔۵۵)
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی اس آیت کے مطابق، دور اول کے مسلمان اپنے ابتدائی دو رمیں خوف کی حالت میں تھے۔ پھر اللہ نے ان کو امن کی حالت میں پہنچا دیا۔ یعنی وہ پہلے دار الخوف میں رہ رہے ـتھے، پھر اللہ نے ان کو دار الامن عطا فرمایا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وسیع تر تقسیم کے لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دار الخوف سے مراد بنیادی طورپر وہ زمانہ ہے جس کو سیرت کی کتابوں میں مکی دور کہا جاتا ہے اور دار الامن سے مراد بنیادی طورپر وہ زمانہ ہے جس کو سیرت کی کتابوں میں مدنی دور کہا گیا ہے۔
گویا کہ وہ چیز جس کو بعد کے فقہاء نے دار الحرب سے تعبیر کیا، اس کو قرآن میں دار الخوف کہا گیا تھا۔ اس طرح ان فقہاء نے جس حالت کو دار الاسلام سے تعبیر کیا، اس کے لیے قرآن میں دارالامن کا لفظ استعمال کیا گیا۔
مذکورہ حالت اسلام کے ظہور کے تقریباً بیس سال بعد تک رہی۔ اُس کے بعد خدا کی مزید عنایت ہوئی۔ پیغمبر اسلام کے آخری زمانہ میں وہ اہم اعلان کیاگیا جو قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں موجود ہے۔ اُس کا ترجمہ یہ ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آج انکار کرنے والے لوگ تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، اور تم صرف مجھ سے ڈرو۔آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ (المائدہ ۳)
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی یہ آیت اس بات کا ایک خدائی اعلان ہے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی تکمیل کے بعد دنیا میں ایک ایسا انقلاب آیا ہے جس نے ہمیشہ کے لیے اس امکان کو ختم کردیا ہے کہ زمین کا کوئی حصہ اہلِ اسلام کے لیے دوبارہ دار الخوف بن جائے۔ اب قیامت تک کے لیے اہل اسلام امن کے دو رمیں داخل ہوچکے ہیں۔ اب ساری دنیا میں اہلِ اسلام کے لیے ایک ایسا دور آچکا ہے جس میں اُن کے لیے خشیت انسانی کا مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اب انسانی تاریخ خشیت الٰہی کے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ گویا اب ساری دنیا ہمیشہ کے لیے دار الامن ہے، اب وہ اہل اسلام کے لیے کبھی دارا لخوف بننے والی نہیں۔ اب اہل اسلام کا کام یہ ہے کہ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کریں، نہ کہ وہ مفروضہ خوف کے نام پر اہل عالَم سے بے فائدہ لڑائی چھیڑ دیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اب مسلمانوں کو یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ دار الاسلام یا دار الامن قائم کرنے کے نام پر غیر مسلم قوموں سے لڑائی کریں۔ اس کے برعکس اب اہل اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں دار الامن کے محافظ بنے رہیں۔ اب مسلمانوں کو اُس نادانی سے بچنا ہے جس کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے:
عن حذیفۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لا ینبغی لمسلم ان یذل نفسہ، قیل و کیف یذل نفسہ قال یتعرض من البلاء لما لا یطیق (مسند احمد ، ۵؍۴۰۵)
hadithQuotes a hadith
حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: کسی مسلم کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ خود اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک ایسی بلا سے تعرض کرے جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔
hadithQuotes a hadith
قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق ، دنیا کا ہر ملک اب اہلِ اسلام کے لیے دار الامن بن چکا ہے۔ دار الامن سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پُرامن دینی عمل کے مواقع موجود ہوں۔ اب جب کہ خُدا نے تمام دنیا کو مسلمانوں کے لیے دار الامن بنا دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اہلِ اسلام کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنا ملّی اور دینی عمل مکمل طورپر امن کے حدود میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ اب اُن کے لیے یہ جائز ہی نہیں کہ وہ پُر امن طریقِ کار کو چھوڑ کر پُر تشدد طریقِ کار اختیار کریں۔
پُر امن طریقِ کار کی یہ فرضیت صحیح البخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا: ما خیّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین أمرین الا اختار ایسرہما(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ اختیار فرماتے)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث کے مطابق، پُر تشدد طریقِ کار ایک مشکل طریقِ کار ہے اور پُر امن طریقِ کار ایک آسان طریقِ کار۔ اب سنّت رسول کی پیروی میں اہلِ اسلام کو یہ کرنا ہے کہ وہ پُر تشدد طریقِ کار سے مکمل طورپر بچیں، اور پُر امن طریقِ کار پر سختی کے ساتھ کار بند رہتے ہوئے اپنا دینی اور ملّی مقصد حاصل کریں۔ اب پُر تشدد طریقِ کار کواستعمال کرنا سنتِ رسول کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور جو لوگ سنّتِ رسول کی خلاف ورزی کریں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات حتمی طورپر واضح ہوجاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو دوسری قوموں کی طرف سے جس متشددانہ سلوک کا تجربہ ہورہا ہے وہ دوسری قوموں کے ظلم کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اُس کا سبب تمام تر یہ ہے کہ مسلمانوں نے سنتِ رسول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ کیا کہ اُنہوں نے پُر امن طریقِ کار کو چھوڑ کر پُر تشدد طریقِ کار کو اختیار کر لیا۔ اب وہ جس ہلاکت کا تجربہ کررہے ہیں اُس کا سبب خود اُن کا مسنون طریقِ کار سے انحراف ہے، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کی طرف سے سازش یا ظلم کا معاملہ۔