Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala August 2020
Al-Risala August 2020

مہدی یا مسیح کی پہچان

Urdu · 4 min read

مہدی یا مسیح کی پہچان کے بارے میں پہلی بات یہ ہے کہ اِس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایات آئی ہیں، اُن میں سے کسی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ مہدی اور مسیح اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کریں گے، یعنی وہ ایسا نہیں کریں گے کہ لوگوں سے کہیں کہ اے لوگو، میں مہدی ہوں، یا میں مسیح ہوں۔ تم لوگ مجھ کو مانو اور میری پیروی کرو۔ اِس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مہدی یا مسیح کو پہچاننے کا ذریعہ ان کا اپنا دعویٰ یا ان کا اپنا اعلان نہ ہوگا، جیسا کہ پیغمبروں کے معاملے میں ہوتا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مہدی یا مسیح کے ظہور کے وقت اُن کو پہچاننے کی صورت کیا ہوگی۔ اِس کا ذریعہ یقینی طورپر صرف ایک ہوگا، اور وہ مہدی یا مسیح کا رول ہے۔ دراصل مہدی یا مسیح کے عملی رول کو دیکھ کر لوگ اُن کو پہچانیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے۔

مہدی یا مسیح کے اِس رول کو متعین کرنے کے لیے احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طورپر اس کے دو پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو وہ ہے جس کو صحیح البخاری کی ایک روایت میں ’’یضع الحرب‘‘کے الفاظ میں بتایاگیا ہے: (کتاب أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی) یعنی مسیح جنگ کو ساقط کردیں گے۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو صحیح مسلم کی ایک روایت میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ہٰذا أعظم الناس شہادۃً عند رب العالمین (کتاب الفتن، باب ذکر الدجال) یعنی یہ شہادت خدا کے نزدیک عظیم ترین شہادت ہوگی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مہدی یا مسیح کے رول کا ایک پہلو وضعِ حرب ہوگا۔ یہ وضع حرب خود مسلمانوں کی نسبت سے ہوگا، نہ کہ سارے عالم کی نسبت سے، یعنی مسلمانوں کے درمیان جنگ کو ساقط کرنا۔ اِس پہلو کا مزید مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جو لٹریچر تیار ہوگا، وہ بعض زمانی اسباب سے، حرب اور جہاد پر مبنی ہوگا۔ اِس طرح یہ صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ مسلمان شعوری طورپر پُرامن دعوت کے تصور سے بے خبر ہوجائیں گے۔ اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر وہ صرف مسلّح جہاد کو اسلامی عمل کا درجہ دے دیںگے۔

ایسی حالت میں، مہدی یا مسیح کا پہلا کام یہ ہوگا کہ وہ اسلام کی ایک غیر عسکری آئیڈیالوجی دریافت کریں۔ یہ آئیڈیالوجی اتنے طاقت ور دلائل پر مبنی ہو کہ وہ معاصر مسلمانوں کی عسکری سوچ کو دلیل کی سطح پر پوری طرح منہدم کردے۔ مذکورہ حدیث میں اصلاً وضع حرب کا مطلب نظریاتی وضعِ حرب ہے، یعنی فکری سطح پر حرب کے تصور کو غیر متعلق (irrelevant) ثابت کردینا۔

مہدی یا مسیح کے رول کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو حدیث میں عظیم ترین شہادت کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔ یہاں شہادت سے مراد جسمانی قربانی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد گواہی (witness) ہے۔ کیوں کہ جسمانی قربانی میں عظیم اور غیر عظیم کا فرق نہیں ہوتا۔ جسمانی قربانی میں داخلی نیت کے اعتبار سے فرق ہوسکتا ہے، لیکن جسمانی اعتبار سے خود ایک شخص کی قربانی اور دوسرے شخص کی قربانی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

عظیم گواہی کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے — دلائل کے اعتبار سے طاقت ور ترین گواہی، یعنی دعوت کے پیغام کو ایسے اعلیٰ دلائل کے ساتھ پیش کرنا جس سے مخاطب اپنے آپ کو علمی طورپر بے دلیل محسوس کرنے لگے ، وہ محسوس کرنے لگے کہ وہ دلیل کی زمین پر نہیں کھڑا ہوا ہے، بلکہ وہ خود ساختہ مفروضات کی زمین پر کھڑا ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مہدی یا مسیح کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہوگا۔ وہ ’’لیلہا کنہارہا‘‘ کے معیار پر پورا اترنے والا واقعہ ہوگا اوریہ بات بالکل فطری ہے۔ جب مہدی یا مسیح اعلان کے ساتھ اپنے کام کا آغاز نہیں کریں گے تو بلاشبہہ ان کے رول کو اتنا زیادہ واضح ہونا چاہیے کہ ایک سنجیدہ اور متلاشی انسان اس کو دیکھ کر یہ دریافت کرلے کہ بلا شبہہ یہی وہ شخص ہے جس کے لیے حدیث میں مہدی یا مسیح کے الفاظ آئے ہیں۔ اگر اِس قسم کا وضوح نہ ہو تو کسی عورت یا مرد کے بارے میں کس طرح یہ فیصلہ ہوگا کہ اُس نے مہدی یا مسیح کو پہچاننے کا ثبوت دیا، یا وہ اُن کو پہچاننے کے اِس امتحان میں ناکام ہوگیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content