حضرت داؤد ایک پیغمبر تھے۔ انھوںنے اللہ تعالیٰ کی حمد ایک خاص انداز میں کی۔ یہ حمد اتنی زیادہ عظیم تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یا داؤد، اتعبتَ الملائکۃ (الشکرلابن أبی الدنیا، رقم الحدیث 36 ) یعنی اے داؤد، تم نے تو فرشتوں کو تھکا دیا۔
یہ سادہ طورپر صرف حمدِ داؤدی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ حمدِ تفکیری کا معاملہ ہے۔ جب بھی کوئی شخص اللہ کی عظمتوں پر سوچتا ہے، وہ آلاء اللہ میں فکر وتدبر کرتا ہے تو اُ س کے اندر تخلیقی معرفت پیدا ہوتی ہے۔ وہ نئے نئے انداز سے اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اُس وقت اس کی زبان سے حمدِ خداوندی کے اظہار کے لیے تخلیقی الفاظ (creative words)نکلنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ درجے کی معرفت ہمیشہ، اعلیٰ درجے کے تدبر سے کسی بندۂ خدا کو ملتی ہے۔
مثال کے طورپر سورج ایک خدائی کارخانہ ہے جو زمین پر روشنی سپلائی کرتا ہے۔ اِسی طرح درخت بھی خدائی کارخانے ہیں جو انسان کو آکسیجن سپلائی کرتے ہیں۔ سورج دن کے وقت اپنی روشنی زمین پر بھیجتا ہے اور شام کے وقت وہ اس کوموقوف کردیتا ہے۔
اگر درخت بھی یہی کریں کہ وہ دن کے نصف حصے میں آکسیجن سپلائی کریں اور دن کے نصف حصے میں وہ آکسیجن سپلائی کرنا بند کردیں تو موجودہ زمین پر انسان کے لیے زندہ رہنا ناممکن ہوجائے گا۔
اِس طرح کی بے شمار خدائی حکمتیں ہیں۔ یہ حکمتیں واقعاتِ فطرت کے اندر چھپی ہوئی ہیں۔ انسان جب سوچتا ہے تو یہ چھپی ہوئی نشانیاں اُس پر ظاہر ہوجاتی ہیں۔
اُس وقت وہ اِس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کی زبان پر حمد کے وہ عظیم الفاظ جاری ہوجائیں جس کی ایک مثال پیغمبر داؤد کے واقعے کی صورت میں بتائی گئی ہے— یہ اعلیٰ حمد ہی وہ چیز ہے جو انسان کو جنت کے اعلیٰ درجات تک پہچانے والی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔