موت بلاشبہہ ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ موت گویا ایک انفرادی زلزلہ ہے۔ عام زلزلہ زمین کی سطح پر واقع ہوتا ہے اور موت ایک فرد کی سطح پر پیش آتی ہے۔ جس طرح انسان زلزلے کو روکنے پر قادر نہیں، اُسی طرح کوئی شخص موت کو روکنے پر بھی قادر نہیں۔ زلزلہ بھی یک طرفہ فیصلے کے تحت بلا اطلاع آتا ہے، اِسی طرح موت بھی یک طرفہ فیصلے کے تحت کسی شخص پر وارد ہوتی ہے۔ زلزلے کو لوٹانا ممکن نہیں۔ اِسی طرح موت کو لوٹانا بھی ممکن نہیں۔ زلزلے کے مقابلے میں انسان مکمل طورپر بے بس ہوتا ہے۔ اِسی طرح موت کے مقابلے میں بھی انسان مکمل طورپر بے بس ہے۔ انسان کو کوئی ذاتی اختیار نہ زلزلے کے اوپر ہے اور نہ موت کے اوپر۔
موت قاطعِ حیات ہے، اور موت کا ذکر قاطعِ خودی۔ خودی (ego) کسی انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ مگر یہی خودی انسان کی تمام خرابیوں کا سبب بن جاتی ہے۔ خودی کی بنا پر کسی انسان کے اندر وہ شخصیت بنتی ہے جس کو خود پسند(self-centered) شخصیت کہاجاتا ہے۔ یہی وہ خود پسند شخصیت ہے جو آدمی کے اندر ذاتی بڑائی کا جذبہ پیدا کرتی ہے، اِسی خود پسندی کا نتیجہ وہ تمام منفی اوصاف ہوتے ہیں جن کو غرور، حسد، ظلم، تشدد پسندی اور انتقام، وغیرہ جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔
موت اِن تمام منفی جذبات کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس آدمی کو حقیقی معنوں میں موت کا زندہ شعور حاصل ہو، جو اِس حقیقت کو دریافت کرلے کہ مجھے لازماً مرنا ہے اور موت کے بعد مجھے رب العالمین کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ ایک کٹ ٹو سائز (cut to size) انسان بن جاتا ہے۔ ایسا انسان آخری حد تک ایک متواضع (modest) انسان ہوجائے گا۔ ذاتی بڑائی کا احساس اُس سے چھن جائے گا۔ وہ کامل طورپر عجز کے احساس میں جینے لگے گا۔ بے اعترافی کا طریقہ چھوڑ کر وہ اعتراف کا طریقہ اختیار کرلے گا۔ وہ حق کے آگے جھک جائے گا، بجائے اِس کے کہ وہ حق کو خود اپنے سامنے جھکانے کی کوشش کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.