Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala August 2020
Al-Risala August 2020

اسلامی نظریۂ جنگ

Urdu · 4 min read

’’نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ دعوت وتبلیغ اور عصری تحریکات‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مشہور عالم کا ایک مقالہ شائع ہوا ہے۔ اِس ضمن میں انھوںنے اسلامی نظریۂ جنگ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اسلامی جہاد کی کارگزاریوں میں اِس کے علاوہ اور کسی بات کی گنجائش نہیں کہ پہلے پہل دشمنوں کو دین کی دعوت دی جائے۔ اگر وہ اسے قبول کرلیتے ہیں، تو اُن کے جان ومال حرام ہیں۔ اور جب اس کا انکار کریں، تو ان سے اسلام اور مسلمانوں کی (سیاسی) ذمے داری میں داخل ہوجانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ لیکن جب وہ لوگ اس کا بھی انکار کردیں، تو پھر جہاد کا حکم ہے، اور اُن سے جنگ کی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں، یا اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیں۔ یہی اسلامی طریقہ ہے‘‘۔ (پندرہ روزہ تعمیر حیات، لکھنؤ، 25 اپریل 2010 ، صفحہ7 )

other sourceWords of another person or source

یہی اکثر علماء کا خیال ہے۔ لیکن یہ سرتاسر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اسلام میں انکارِ دعوت پر جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف جارحیت (aggression) پر مدافعانہ جنگ ہے۔ اِس مدافعانہ جنگ کی بھی بہت سی لازمی شرطیں ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اِس دفاعی جنگ کا حق بھی صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے(الرحیل للإمام)۔ غیر حکومتی افراد یا غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کو ہرگز یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی کو منکر یا دشمن قرار دے کر اُس کے خلاف مسلح جنگ شروع کردیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر کسی مقام پر وہ صورتِ حال ہو جس کو عام طورپر ظلم یا بے انصافی سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو وہ ہرگز کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کے لیے جنگ چھیڑنے کا عذ ر نہیں۔ ایسی صورت حال میں کسی مسلم فرد یا مسلم تنظیم کے لیے ایک ہی انتخاب (choice) ہے، یہ کہ وہ کامل طورپر پُر امن رہتے ہوئے دعوت اور اصلاح کا کام کرے۔ بالفرض اگر فریقِ مخالف کی طرف سے زیادتی کا سلوک کیاجائے تو اس کے بعد بھی مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی انتخاب ہے، اور وہ صبر ہے، یعنی وہ اپنے نزاعی عمل کو یک طرفہ طورپر موقوف کردیں اور فریقِ ثانی کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں

ایک روایت حدیث کی کتابوںمیں ان الفاظ میں آئی ہے: أمرتُ أن أقاتل الناس حتی یقولوا لاالٰہ إلا اللہ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب الأمر بقتال الناس) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں ، یہاں تک کہ وہ یہ کہہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث سے کچھ لوگ یہ مطلب نکالتے ہیں کہ اسلام کا نشانہ لوگوں سے اُن کے عقیدے کو بدلوانا ہے، اسلامی دعوت کا آغاز پُر امن تبلیغ سے ہوگا، لیکن اگر وہ پر امن تبلیغ سے اسلام قبول نہ کریں تو اُن سے باقاعدہ جنگ کی جائے گی، تاکہ وہ مجبور ہو کر اسلام کے حلقے میں داخل ہوجائیں۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

اِس حدیث کا یہ مطلب یقینی طورپر درست نہیں ہے۔ پہلی بات یہ کہ اِس حدیث میں ’’الناس‘ کا لفظ عام معنوں میں نہیں ہے، بلکہ وہ خاص معنی میں ہے۔

اِس حدیث میں الناس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر بنو اسماعیل (قریش مکہ) ہیں۔ اِس حدیث کو عمومی معنوں میں لینا ہر گز درست نہیں۔ الناس کے لفظ کا ایسا خصوصی استعمال قرآن میں بھی دیگر مقامات پر موجود ہے۔ مثلاً سورہ النصر (110)میں الناس سے مراد مخصوص طور پر یہی قریشِ مکہ ہیں، نہ کہ عمومی طورپر ساری دنیا کے لوگ۔

اِس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے معاصر الناس سے اِس قسم کی جنگ نہیں کی۔ اِس واقعے کو سامنے رکھئے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ حدیث میں قتال کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ شدتِ کلام کا ایک اسلوب ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) ہے، وہ تشریعی حکم کی زبان نہیں۔

اسلامی تعلیم کے مطابق، دعوت وتبلیغ کا کام مکمل طورپر ایک پر امن کام ہے، اپنے آغاز میں بھی اور اپنے انجام میں بھی۔ دعوت کا نشانہ ایک انسان کے ذہن ودماغ کو بدلنا ہے، تاکہ وہ ایک صالح انسان بن سکے۔

اِس قسم کا مقصد صرف پر امن نصیحت کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے، نہ کہ جنگ اور قتال کے ذریعے۔ جنگ اور تشدد کا طریقہ معکوس نتیجہ پیدا کرے گا، نہ کہ مطلوب نتیجہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content