Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala August 2019
Al-Risala August 2019

امن کا مقصد

Urdu · 3 min

امن کا مقصد فوری فائدہ(immediate gain) حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ مواقع کو پیدا کرنا ہے۔ امن پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں امن کا ماحول موجود ہو، اس کو انسانی ترقی کے لیے استعمال کرنا، اور اگر امن کے حالات موجود نہ ہوں، تو یک طرفہ کوشش کے ذریعے ایسے حالات پیدا کرنا، جو پرامن ماحول بنانے والے ہوں۔

مثلاً اگر کہیں دو قومی نظریہ کا کلچر پایا جاتا ہو، تو اس کو ختم کرنا، اور انسانی نظریے کو فروغ دینا۔ اگر کہیں مطالباتی سیاست کا رواج ہو، تو اس کو یک طرفہ اصلاح کے ذریعے ختم کرنا، اور جدید نظریے کے مطابق، پرامن اور صحت مند مسابقت کو رواج دینا، وغیرہ۔

جدید تہذیب کے تحت جو کلچر بنا ہے، وہ پرامن اور صحت مند مسابقت کا کلچر ہے۔ یہی کلچر اسلام میں بھی مطلوب ہے۔ مسلمانوں میں اگر کہیں اس کے برعکس کوئی کلچر پایا جاتا ہو، تو وہ قدیم قبائلی کلچر کی باقیات کے طور پر ہیں۔ دو قومی نظریہ بھی اسی قسم کی قبائلی باقیات کا نتیجہ ہے۔

امن پسندی کی دو نظریاتی بنیادیں ہیں۔ ایک ہے مبنی بر افادیت امن پسندی۔ مثلاً تجارتی فائدے کے لیے امن پسندی۔ یہ بھی ایک مطلوب امن پسندی ہے۔لیکن اس کا کوئی اخروی انعام نہیں۔ دوسرا ہے، مبنی بر دعوت امن پسندی۔یہ مبنی بر اصول امن پسندی ہے، اور اس کا انعام جنت ہے۔ مبنی بر دعوت امن پسندی آخرت کے انعام کے لیے ہوتی ہے، اور اس کا اجر اللہ کے یہاں بہت زیادہ ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ساتھ جو صلح حدیبیہ کی تھی، وہ مبنی بر دعوت امن پسندی تھی، اور یہ امن پسندی پیغمبرانہ اسوہ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نوعیت کی امن پسندی اس اعلیٰ اخلاقِ نبوی سے تعلق رکھتی ہے، جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں وَإِنَّکَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِیمٍ (68:4)۔ یعنی اور بیشک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content