Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala August 2019
Al-Risala August 2019

قرآن، کتاب مہجور

Urdu · 2 min

قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:وَقَالَ الرَّسُولُ یَارَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا(25:30)۔ یعنی رسول کہے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو بالکل چھوڑ دیا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت سے اولاً وہ لوگ مراد ہیں جن کے سامنے قرآن آتا ہے، مگر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ جیسا کہ مکی دور میں قریش نے کیا۔ تاہم اس نفسیات کا عملی مظاہرہ کبھی ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوتاہے جو بظاہر قرآن کو ماننے والوں کی فہرست میں داخل ہوں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر قرآن میں آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے۔ تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، ا س میں تدبر نہ کرنا، اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی تصحیح قرأت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کرکے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجرانِ قرآن کے تحت داخل ہوسکتی ہیں‘‘۔

قرآن کے ماننے والوں کے لیے قرآن کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنانے کی یہ شکل کبھی نہیں ہوتی کہ اس کا احترام وتقدس لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہے۔ برکت اور تقدس کا نشان ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ اس کو اپنے طاق کی زینت بنائے رہتے ہیں۔ البتہ وہ اس سے فکری رہنمائی لینا چھوڑ دیتے ہیں۔ خدا کی کتاب میں ان کے لیے ذہنی غذا نہیں ہوتی۔ وہ ان کی حقیقی زندگی کا سرمایہ نہیں بنتی۔ وہ ان کی دنیا پرستانہ زندگی کے لیے ’’برکت کا تعویذ‘‘ تو ضرور ہوتی ہے مگر آخرت کی رہنما کتاب کی حیثیت سے ان کی زندگی میں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا— یہ مطلب ہے خدا کی کتاب کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنا دینے کا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content