ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:عن عبادة بن الصامت الانصاری، بایعنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم على السمع والطاعة، فی منشطنا ومکرہنا، ... وأثرة علینا، وأن لا ننازع الأمر أہلہ(صحیح البخاری،حدیث نمبر7056)۔ یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی سمع و طاعت پر، پسند پر بھی اور ناپسند پر بھی، اور اس پر کہ دوسروں کو ہمارے اوپر ترجیح دی جائے، اور اس پر کہ ہم صاحب امر سے نزاع نہ کریں۔
اس حدیث میں جس معاملے کا ذکر ہے، اس کا تعلق صرف رسول اور صرف اصحابِ رسول سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام اجتماعی اصول ہے جس کی پابندی ہر دور میں ضروری ہے۔ کیو ں کہ اس طرح کا معاملہ ہمیشہ اور ہر اجتماع میں پیش آتا ہے۔ مثلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں انصار اور مہاجرین کے درمیان کوئی فرق نہ تھا۔ مگر جب رسول اللہ کی وفات کے بعد خلافت کا دور آیا تو اس اصول کو اختیار کیا گیا کہ الائمۃ من قریش (مقدمہ ابن خلدون،بیروت، 1988، صفحہ 242)۔یعنی خلافت کے معاملےمیں انصار کے اوپر مہاجرین کو ترجیح دینا۔
یہ جوہوا، یہ بر بنائے ضرورت تھا، نہ کہ بر بنائے فضیلت۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اگر کوئی تحریک کتابت اور لیتھو پرنٹنگ کے زمانے میں شروع ہو تو روایتی لوگ تمام کاموں کو انجام دیں گے۔ لیکن تحریک آگے بڑھ کر جب کمپیوٹر اور جدید ٹکنالوجی کے دور میں داخل ہوجائے تو حالات کا تقاضا ہوگا کہ وہ لوگ کام کو سنبھال لیں جولوگ اپنی تعلیم و تربیت کے اعتبار سے کمپیوٹر اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال کو جانتے ہیں۔ ایسا واقعہ ترجیح (preference) کی بنا پر نہیںہوگا، بلکہ وہ مکمل طور پر ضرورت کی بنا پر ہوگا۔ اس حدیثِ رسول میںاجتماعی اخلاقیات کا ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب ایسا کوئی معاملہ پیش آئے، جو بظاہر ترجیح (preference) کادکھائی دیتا ہو تو اس کو دل کی آمادگی کے ساتھ قبول (accept)کیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔