← Al-Risala August 2016Al-Risala August 2016
حکیمانہ تربیت
Urdu · 3 min read
انسان کی زندگی میں ابتدائی تقریباً دس سال کو حیاتیاتی اعتبار سے تیاری کا دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ اس ابتدائی دورِ حیات میں انسان کی شخصیت کا بڑا حصہ عملا ً بن کر تیار ہوجاتا ہے۔ انسان کی زندگی میںیہ ابتدائی مدت، تربیت کے نقطۂ نظر سے بہت زیادہ اہم ہے۔
پیغمبر اسلام نے اس تربیتی مقصد کے لیے اپنی زندگی میں دو اشخاص کو خصوصی طور پر چنا۔ ایک، علی ابن ابی طالب اور دوسرے، عائشہ بنت ابی بکر۔ دونوں کو آپ نے یہ موقع دیا کہ وہ کم عمری میں آپ کی صحبت میں رہ کر تربیت پائیں، اور وہ چیز حاصل کریں جس کو قرآن(البقرۃ129) میں حکمتِ رسول (prophetic wisdom)کہا گیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حکیمانہ تربیت کا یہ مقصد صرف کم عمری میں حاصل کیا جاسکتا تھا۔ آپ نے علی ابن ابی طالب کو اپنی صحبت میں رکھنے کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ کم عمری میں ان کےکفیل بن گیے۔عائشہ ایک خاتون تھیں، اس لیے ان کے لیے یہ طریقہ قابلِ عمل نہ تھا۔ چناں چہ آپ نے عائشہ بنت ابی بکر سے کم عمری میں نکاح کرلیا۔ روایات کے مطابق،یہ نکاح اس وقت ہوا جب کہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی، اوررخصتی اس وقت ہوئی جب کہ ان کی عمر نو سال ہو چکی تھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر5188) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کچھ لوگوں نے عائشہ کی عمرِ نکاح کے بارے میں تاویل کا طریقہ اختیار کیا ہے ۔ مگر یہ ایک غیر ضروری کوشش ہے۔یہ زاویۂ نظرکے فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ اس واقعہ کو نکاح کے زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تیاری کی مدت (formative period) میں پیغمبرانہ تربیت کا معاملہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نتیجہ اس توجیہہ کی تصدیق کرتا ہے۔ چناں چہ یہ بات علماء کے درمیان ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے ، یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ علی اور عائشہ، دونوں بصیرت اور تفقہ کے اعتبار سے تمام صحابہ میں امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔
رسول سے استفادے کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ کے اقوال کو محفوظ کرلیا جائے ، اور اس کو لوگوں سے بیان کیا جائے۔ اس معاملہ میں ابو ہریرہ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ رسول اللہ کی باتوں کو سن کر اور آپ کے عمل کو دیکھ کر حقائق کا استنباط کیا جائے۔ یہ دوسرا فائدہ صرف متواتر صحبت کے ذریعے حاصل ہوسکتا تھا۔ اس دوسرے مقصد کے لیے علی ابن ابی طالب اور عائشہ بنت ابی بکر کا کم عمری میں انتخاب کیا گیا۔
مثال کے طور پر علی ابن طالب کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے:قیمة کل امرئ ما یحسن (جامع بیان العلم و فضلہ، حدیث نمبر 608-9)۔یہ بات ان الفاظ میں کسی حدیث رسول میں نہیں آئی ہے۔ یہ رسول کی صحبت سے مستنبط کی ہوئی ایک حکمت ہے۔ اس بات کو اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس اعتبار سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کو کتنے امتیاز کے ساتھ انجام دیتا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The value of a person lies in his excellence .
یہی معاملہ عائشہ بنت ابی بکر کا ہے۔ حضرت عائشہ کے استنباطات مشہور ہیں۔ یہ تمام استنباطات اعلیٰ حکمت کا نمونہ ہیں۔ وہ رسول اللہ کی صحبت سے اخذ کی ہوئی حکمت کی باتیں ہیں۔ مثلا حضرت عائشہ کا یہ حکیمانہ قول :ما خیر النبی صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرہما(صحیح البخاری، حدیث نمبر6786)۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان تر کا انتخاب کرتے تھے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier of the two.
hadithQuotes a hadith
رسول اللہ سے سنی ہوئی باتوں کو حدیث کہا جاتا ہے۔ علی اور عائشہ کا امتیاز استنباط کے پہلو سے ہے۔ انھوں نے رسول اللہ کی صحبت میں رہ کر حکمت کی باتیں اخذ کیں۔ اور ان کو اپنی زبان میں بیان کیا۔ کم عمری میںان دونوںصاحبان کے لیے صحبت رسول بہت مفید تھی۔ اس صحبت نے ان کے اندر اخذ (grasp) کی طاقت کو بہت بڑھا دیا۔