قرآن میں باربار تدبر پر زور دیا گیاہے- قرآن کی سورہ ص میں یہ آیت آئی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے- جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اِس سے نصیحت حاصل کریں-قرآن کی اِس آیت میں مبارک کا لفظ اِس معنی میں ہےکہ قرآن کی ہر آیت میں گہرے معانی چھپے ہوئے ہیں- اِن گہرے معانی کو صرف تدبر (contemplation) کے ذریعہ دریافت کیا جاسکتا ہے- اور جب قرآن کی آیتوں پر اِس طرح غور کیا جائے، تو آدمی اُس کے اندر ایسے معانی دریافت کرے گا جو اُس کی عقل کو ایڈریس کرنے والے ہوں- اور اُس کی شخصیت میں ربانی انقلاب لانے کا ذریعہ بن جائیں-
قرآن میں بہت کم ایسی باتیں ہیں، جو صراحت کی زبان میں ہیں- زیادہ تر باتیں اُس میں سراغ (clue) کے اسلوب میں ہیں- یعنی اِن آیتوں میں گہرے معانی کی طرف اشارہ کیاگیا ہے، جو آدمی کے لیے غوروفکر میں رہنمائی دیتے ہیں- یہ اسلوب اِس لیے ہے تاکہ قرآن کے معانی کی دریافت کے ساتھ انسان کے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل بھی جاری رہے-
مثلاً قرآن میں بار بار پانی کا ذکر ہے- انسان کے لئے پانی کی اہمیت کو بتایا گیاہے- مگر قرآن میں پانی کے گہرے پہلوؤں کا ذکر نہیں ہے- مثلاً پانی انسان کے لئے بہت سے فوائد کا واحد ذریعہ ہے- طہارت کے لئے اور دوسرے بہت سے فائدوں کے لیے- اِس معاملے میں کوئی بھی چیز پانی کا بدل (substitute)نہیں- مگر قرآن میں اِس حقیقت کو لفظی طورپر نہیں بتایا گیا- مثلاً یہ نہیں کہا گیاہے کہ پانی کا کوئی بدل نہیں (لابَدیل للماء)- پانی کے بارے میں اِس حقیقت کو انسان کے اوپر چھوڑ دیاگیا ہےکہ وہ اِس پر غور کرے، اور پانی کی اِس اہمیت کو دریافت کرکے، خالق کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے اور گہرائی کے ساتھ اُس کا `شکر ادا کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔