قرآن میں اللہ کے بندوں کی صفات بتاتےہوئے ان کی ایک صفت اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِـرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا (25:73) یعنی وہ ایسے ہیں کہ جب اُن کے رب کی آیتوں کے ذریعے اُن کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے-
’’اللہ کی آیتوں کے ذریعے تذکیر‘‘ کا مطلب کیا ہے- اِس کا مطلب یہ ہےکہ ایک انسان، جو قرآن کے الفاظ میں، اپنی خواہش کو اپنا رہنما بنائے ہوئے ہو، اس کی غلطی کی نشان دہی کرنا اور یہ بتانا کہ تم کو خدا کی دنیا میں خدا کی پسند کے طریقے پر چلنا ہے، نہ کہ اپنی پسند کے طریقے پر- اِس قسم کی نصیحت آدمی کو اپنے خلاف تنقید نظر آتی ہے- وہ اِس قسم کی نصیحت کو سننے کے بعد فوراً رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتاہے- وہ ایسی نصیحت کے جواب میں غیر سنجیدہ انداز اختیار کرلیتا ہے- وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے خود ناصح کو غلط ثابت کرنا شروع کردیتاہے-
وہ اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے — اِس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا رد عمل اندھے بہرے انسان کے رد عمل کی مانند نہیں ہوتا- اندھے اور بہرے انسان کی مانند رد عمل یہ ہے کہ آدمی نصیحت کو سن کر اُس کے جواب میں ایسا رسپانس دے جیسے کہ اس نے اصل بات کو نہ سنا اور نہ ا س کو سمجھا، وہ ناصح کی اصل بات سے بے خبر رہ کر غیر متعلق باتیں بولنے لگا، وہ دلیل کے جواب میں الزام تراشی کرنے لگا، وہ ایک علمی بات کا جواب غیر علمی انداز میں دینے لگا، وہ نصیحت کے اصل نکتے پر دھیان دئے بغیر ایسی باتیں کہنے لگا جس کا ناصح کی نصیحت سے کوئی تعلق نہیں-
اللہ سے تعلق آدمی کے اندر سنجیدگی پیدا کرتا ہے- اِس کے برعکس، جو انسان اللہ سے دور ہو، وہ ایک غیر سنجیدہ انسان بن جاتا ہے- وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جیسے کہ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھتا، وہ کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں سنتا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔