Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala August 2013
Al-Risala August 2013

انسان کی محرومی

Urdu · 4 min read

قرآن کی سورہ الاعراف میںانسان کی حالت پر ایک تبصرہ اِن الفاظ میں کیا گیا ہے: وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ الَّذِیْٓ اٰتَیْنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ؁ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ۭ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (7:175-176) یعنی اُن کو اُس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں دی تھیں تو وہ اُن سے نکل بھاگا- پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا- اور اگر ہم چاہتے تو اس کو اُن نشانیوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کا ہورہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا- پس اس کی مثال کتّے کی سی ہے کہ اگر تو اُس پر بوجھ لادے تب بھی وہ ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے- یہ مثال اُن لوگوں کی ہے جنھوںنے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا- پس تم یہ احوال اُن کو سناؤ، تاکہ وہ غور کریں-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

شانِ نزول کی روایت کے مطابق، قرآن کی اِس آیت میں ایک شخص کا قصہ بیان ہوا ہے- یہ حضرت موسی کے زمانے کا ایک بڑا اسرائیلی عالم تھا جس کا نام بلعم بن باعوراء بتایا گیا ہے- مگر قرآن کے اسلوب کے مطابق، یہاں انفرادی حوالہ (particular reference) میں ایک عمومی بات کہی گئی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے علم میں ایسی نشانیاں (signs) آتی ہیں جو اس کو بتاتی ہیںکہ وہ اپنی زندگی کو اعلی مقصد کے لیے استعمال کرے- لیکن شیطانی وسوسے کے زیر اثر وہ اپنی خواہشات سے مغلوب ہوجاتاہے اور اُن چیزوں کو اپنا نشانہ بنا لیتاہے جس کے لیے وہ پیدا نہیں کیاگیا تھا-

قرآن کی اِس آیت میں وہی بات کہی گئی ہے جو انسان کے حوالے سے دوسرے مقام پر اِن الفاظ میں آئی ہے: کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ ۙ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ (75:20-21)- اصل یہ ہے کہ انسان کی ذات میں تخلیقی طورپر ایسی نشانیاں ہیں جو بتاتی ہیں کہ اُس کو ایک اعلی مقصد کے لیے پیدا کیاگیا ہے- وہ اعلی مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے اور آخرت میں ابدی جنت کی صورت میں اس کا انعام پائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مگر ’’آج‘‘ کے مواقع کو نظر انداز کرکے ’’کل‘‘ کے لیے اپنے آپ کو وقف کردینا انسان کو مشکل معلوم ہوتا ہے، اِس لیے وہ ایسا کرتاہے کہ وہ آنے والے کل (tomorrow) کو نظر انداز کردیتا ہے اور اُس فوری فائدہ کے حصول کو اپنا نشانہ بنا لیتاہے جس کو آج کل ’رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ‘ (right here, right now) کہا جاتا ہے، اِس طرح انسان اپنے آپ کو اُس اعلی کامیابی سے محروم کرلیتا ہے جو اُس کے خالق نے اس کے لیے مقدر کیا ہے-

ایسے انسان کی مثال اُس کتے سے دی گئ ہے جس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر اس پر بوجھ لادا جائے تب بھی وہ ہانپے اور اگر چھوڑ دیا جائے تب بھی ہانپے- یہ تمثیل بہت بامعنی ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے چوں کہ جنت کے لیے پیدا کیا گیاہے، اِس لیے جنت کے سوا کوئی اور نشانہ اختیار کرنے کی صورت میں اس کی فطرت ہمیشہ غیر مطمئن رہتی ہے- پہلے مرحلے میں اُس کو یہ نشانہ بہت مشکل نظر آتا تھا کہ وہ نہ دکھائی دینے والی آخرت کی خاطر دکھائی دینے والی دنیا کو قربان کردے- لیکن جب وہ دکھائی دینے والی دنیا کے حصول کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے اور بظاہر اپنا نشانہ پورا کرلیتا ہے، تب بھی وہ غیر مطمئن رہتا ہے، کیوں کہ جس دنیوی چیز کو اُس نے پایا ہے، وہ اس کی اُس داخلی طلب کے مطابق نہیں جو فطری طورپر اس کے اندر موجود ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’یہ مثال اُن لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کی تکذیب کی‘‘- یہاں تکذیب سے مراد نظر انداز کرنا یا سبق نہ لینا ہے- انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اُس کو ایک خدا طلب مخلوق (God-seeking being) کے طور پر پیدا کیاگیا ہے- جب وہ خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا مقصود بناتاہے تو بہت جلد اس کو عدم مطابقت کا احساس ہونے لگتاہے- اس کی فطرت یاددلاتی ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جو تمھارا اصل مقصود تھی، مگر آدمی شیطان کے زیر اثر فطرت کے اِن اشاروں کو نظر انداز کردیتا ہے، وہ بدستور ایساکرتاہے کہ وہ غیر مقصود کو اپنا مقصود بنائے رہتا ہے- وہ اِسی حال میں جیتا ہے، یہاں تک کہ مر کر اِس دنیا سے چلا جاتاہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content