حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے بارے میں فرمایا: کل عمل بن آدم یضاعف الحسنة بعشر أمثالہا إلى سبع مأة ضعف- قال اللہ تعالى: إلا الصوم، فإنہ لی وأنا أجزی بہ، یدع شہوتہ وطعامہ من أجلی (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1151 ) یعنی انسان کے ہر عمل کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے- اللہ تعالی نے فرمایا :مگر روزہ کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا- روزے دار میرے لیے اپنی شہوت کو اور اپنے کھانے کو چھوڑتا ہے-
اِس حدیثِ رسول میں جس عظیم ثواب کا ذکر ہے، اس کا تعلق صرف روزے سے نہیں ہے ،بلکہ توسیعی طورپر اُس کا تعلق ہر اُس عمل سے ہے جو للّٰہ یا لأجل اللّٰہ کیا گیا ہو، یعنی وہ عمل جو خالص اللہ کے لیے کیا جائے- یہ وہ عمل ہے جو اللہ سے بے پناہ تعلق کے تحت ظہور میں آتا ہے-
ایک انسان جس کو اللہ کی اعلی معرفت حاصل ہوئی ہو، جس کے اندر اللہ سے حبّ شدید (2:165) پیدا ہوگیا ہو، جو اللہ سے خوفِ شدید کی نفسیات میں جیتا ہو، جس کے تعلق باللہ نے اُس کا یہ حال کردیا ہو کہ اللہ اس کا سول کنسرن (sole concern)بن گیا ہو، اللہ کی یاد جس کا سب سے بڑا سرمایہ بنا ہوا ہو، ایسا انسان اگر بظاہرایک چھوٹا سا کام بھی خالصتاً اللہ کے لیے کرے تو داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے، وہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ سارے زمین وآسمان بھی اس کا تحمل نہ کرسکیں-
ایسا ایک عمل اپنی داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے، کسی انسان کا عظیم ترین عمل ہوتا ہے- اس کی کیفیاتی قدر وقیمت (qualitative value) اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کسی بھی پیمانے سے اس کو ناپا یا تولا نہیں جاسکتا- وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انسان کی پوری شخصیت کا اظہار ہوتا ہے- یہ ربانی عمل کی وہ قسم ہے جب کہ بندہ اپنے آپ کو آخری حد تک اللہ کے آگے ڈال دیتا ہے- اُس وقت اللہ بھی اپنے لامحدود انعام کو اپنے بندے کے لیے مقدر کردیتاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔