← Al-Risala August 2012Al-Risala August 2012
امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنج
Urdu · 5 min read
میرے مطالعے کے مطابق، عرب وعجم کے تمام مسلمان اِس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کو مختلف قسم کے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ تقریباً دو سو سال کی غیر معمولی کوشش کے باوجود یہ چیلنج بدستور باقی ہے۔ ایسی حالت میں یہ بات بے حد قابلِ غور ہے کہ اس چیلنج کاتجزیہ کیا جائے اور اِس کے حوالے سے مسلمانوں کا لائحہ عمل متعین کیا جائے۔
چیلنج کیا ہے۔ چیلنج کا لفظ مسئلہ (problem) کے لفظ سے مختلف ہے۔مسئلہ ایک منفی لفظ ہے، جب کہ چیلنج ایک مثبت لفظ ہے۔ چیلنج نسبتاً ایک نیا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے — ایک نیا یا مشکل مسئلہ جو کہ آدمی کے لیے اس کی استعداد کا امتحان ہوتا ہے:
A new or difficult task that tests somebody's ability and skill.
چیلنج کا رسپانس دینے کی دوصورتیں ہیں — نگیٹیو رسپانس (negative response) اور پازیٹیو رسپانس (positive response)۔ نگیٹیو رسپانس یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی چیلنج کا سامنا ہو تو وہ منفی رد عمل کا شکار ہوجائے۔ ایسے آدمی یا گروہ کا حال یہ ہوگا کہ چیلنج پیش آنے کے بعد وہ نفرت اور شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے گا۔ یہی نفسیات اس کو تشدد تک لے جائے گی اور آخر کار خود کش بم باری تک۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا یہی حال ہوا ہے۔ تقریباً دوسو سال پہلے اُن کو مغربی اقوام یا مغربی تہذیب کی طرف سے چیلنج پیش آیا۔ عرب سے عجم تک تمام مسلمان کم وبیش اس کا شکار ہوئے۔ مگر تمام مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ انھوں نے اِس چیلنج کا منفی رسپانس دیا۔ اِس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کو یک طرفہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔اِس جدید چیلنج کے مقابلے میں، صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلمان اس کا مثبت رسپانس دیتے۔ اِس معاملے میں مثبت رسپانس یہ تھا کہ وہ گہرائی کے ساتھ جدید چیلنج کا مطالعہ کرتے۔ وہ اِس قانونِ فطرت کی روشنی میں اس کا مطالعہ کرتے کہ — جب بھی کوئی چیلنج سامنے آتا ہے تو وہ مسائل (problems) کے علاوہ، نئے امکانات (opportunities) بھی اپنے ساتھ لے آتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اِس امکان کو سمجھے اور اس کو استعمال کرے۔
مغربی چیلنج کیا تھا، وہ دراصل یہ تھا کہ مغربی قوموں نے فطرت (nature) کا گہرا مطالعہ کیا۔ انھوں نے نئی طاقتیں دریافت کیں۔ مثلاً پرنٹنگ پریس، مشین، کمیونکیشن، وغیرہ۔ اِس طرح ایک نئی تہذیب (civilization) وجود میں آئی۔ اِس واقعے نے مغربی قوموں کو نئی طاقت دے دی۔ انھوںنے قدیم دنیا پر فکری اور عملی غلبہ حاصل کرلیا۔ مسلمانوں نے محسوس کیا کہ مغربی قومیں غالب اور مسلمان مغلوب بن کررہ گئے ہیں۔
اِس نئی پیش آمدہ صورتِ حال کے مقابلے میں مسلمانوں نے صرف منفی رد عمل کا طریقہ اختیار کیا۔ صحیح یہ تھاکہ وہ جدید دریافتوں کے پیدا کردہ امکانات کو عالمی امکانات سمجھتے۔ جس طرح اِن امکانات کو اہلِ مغرب نے اپنے حق میں استعمال کیا ہے، اُسی طرح مسلمان بھی اِن جدید امکانات کو اپنے حق میں استعمال کرتے۔ یہ مسلمانوں کی طرف سے، جدید چیلنج کا مثبت رسپانس ہوتا۔ مسلمان اگر ایسا کرتے تو یقینی طور پر وہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرلیتے۔
یہ اِس معاملے کا عقلی پہلو ہے۔ اگر اِس معاملے کو خالص دینی اعتبار سے دیکھیں، تب بھی معلوم ہوگا کہ جدید چیلنج کی نسبت سے مسلمانوں کا یہ رویہ یقینی طورپر درست نہ تھا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان متفقہ طورپر ایک ہی بات کہتے ہیں۔ وہ یہ کہ وہ موجودہ صورتِ حال کو مغربی قوموں کی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد بات ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان اگر صبر اور تقویٰ کی روش اختیار کریں، تو دوسروں کی سازش انھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی(3: 120) ۔ قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوا کہ اِس دنیا میں کسی گروہ کے خلاف سازش (conspiracy) اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خود اُس گروہ کے اندر صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ باقی نہ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے ایک لمبی دعا کی۔ اِس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے یقین دہانی کرتے ہوئے اپنے پیغمبر سے فرمایا: یا محمد، إنی أعطیت لأمتک أن لا أسلّط علیہم عدوًّا من سویٰ أنفسہم (صحیح مسلم، رقم الحدیث:2889 ) یعنی اے محمد، میں نے تمھاری امت کے لیے یہ مقدر کردیا ہے کہ میںاُن کے اوپر اُن کے اپنے سوا کسی خارجی دشمن کو مسلط نہیں کروں گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ امتِ محمدی کے لیے کسی پراسرار فضیلت کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی واقعے کی بات ہے۔ خاتم النبیین کی امت ہونے کی حیثیت سے، امتِ محمدی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آنا تھا کہ وہ بعد کے دور میں پہنچے، یعنی ایک ایسے دور میں جب کہ حالات مکمل طورپر بدل جائیں گے۔ یہ دور وہی ہے جس کو ہم آزادی اور جمہوریت اور اقوامِ متحدہ (UNO) کا دور کہتے ہیں۔ اِس نئے دو رمیں خود حالات کی تبدیلی کے نتیجے میں یہ ممکن ہوگیاکہ کوئی خارجی دشمن کسی کے لیے مسئلہ نہ بنے۔ اِس نئے دور میں اگر کوئی گروہ سنگین مسائل سے دوچار ہے تو وہ خود اپنی غلطی کی قیمت ادا کررہا ہے۔ اب خود حالات کی تبدیلی کے نتیجے میں کسی گروہ کے لیے خارجی حملہ (external invasion) کا مسئلہ نہیں ہے، وہ صرف داخلی ناکامی (internal failure) کا مسئلہ ہے۔