Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala August 2012
Al-Risala August 2012

تمکین فی الارض

Urdu · 5 min read

قرآن کی سورہ النور کی ایک آیت میں ایک اہم تاریخی اصول بتایا گیا ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور عمل صالح کریں کہ اللہ اُن کو زمین میں استخلاف عطا کرے گا، جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو استخلاف عطا کیا تھا۔ اور ان کے لیے اُن کے اُس دین کو تمکین عطا کرے گا جس دین کو اللہ نے اُن کے لیے پسند کیا ہے۔ اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد اُس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو وہ میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں‘‘۔(55: 24)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں ’’تمکین‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تمکین کا مطلب قدرت دینا (strengthening) ہے۔ اِس قدرت یا تمکین سے کیا مراد ہے،اُس کا ذکر خود قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود ہے۔ آیت کے مطابق، وہ قدرت یا تمکین یہ ہے کہ دین کے معاملے میں خوف کی حالت ختم ہوجائے اور امن کی حالت قائم ہوجائے۔ اہلِ ایمان کو یہ موقع مل جائے کہ وہ شرک سے محفوظ ہو کر اللہ کی مطلوب عبادت کرسکیں۔ ’استخلاف فی الارض‘ سے مراد اِسی قسم کی تمکین ہے۔ اِس آیت میں استخلاف یا تمکین سے مراد کسی قسم کا قومی غلبہ یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اُس سے مرادوہ موقع ہے جب کہ ایک مومن کو آزادانہ طور پر عابدانہ زندگی گزارنا ممکن ہوجائے۔

اللہ تعالیٰ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، اِس دنیا میں انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اِس آزادی کی بناپر یہ ممکن نہیں ہے کہ اجتماع کی سطح پر کوئی کامل نظام قائم ہوجائے۔اِس لیے نظام یا سیاسی اقتدار کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ اصول رکھا ہے کہ حالات کے تحت کبھی ایک گروہ کو سیاسی اقتدار ملے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ اِس حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تلک الأیام نداولہا بین الناس (3: 140)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ کی یہ سنت مجموعی نظام یا سیاسی اقتدار کے بارے میں ہے، مگر جہاں تک افراد کا تعلق ہے، اُن کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ ان کو ہر حال میں یہ موقع حاصل رہے کہ وہ خدائے واحد کی آزادانہ عبادت کریں اور پُرامن دعوت الی اللہ کو کسی رکاوٹ کے بغیر ہر حال میں جاری رکھ سکیں۔ اِس لیے اللہ نے اِس سلسلے میں یہ اصول اختیار کیا ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں قوموں کو ایک حد تک آزادی دئے ہوئے ہے، لیکن اللہ نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ عبادت اور دعوت الی اللہ کے کام میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرے۔ جب بھی کو ئی گروہ اِس قسم کی غیر ضروری رکاوٹ ڈالتاہے تو اللہ تعالیٰ تاریخ میں مداخلت کرکے اِس غیر ضروری رکاوٹ کو ختم کردیتاہے، تاکہ آزادانہ عبادت اور پُرامن دعوت کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔

ساتویں صدی عیسوی میں فتنہ (جارحانہ شرک) کو ختم کرنے کے لیے اصحابِ رسول کو قتال کا حکم دینا اِسی مصلحت کے تحت تھا (39: 8)۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہی کام ایک اور صورت میں انجام پایا ہے۔ سوویت یونین (کمیونسٹ جبر) دوبارہ دعوت اور عبادت کے معاملے میں اِسی قسم کی ایک رکاوٹ بن گیا تھا، اللہ نے اس کو امریکا کے ذریعے 1991 میں توڑ دیا۔

استخلاف یا تمکین کا مطلب حکومت الٰہیہ کا قیام نہیں ہے۔ استخلاف کا تعلق دراصل خدا کی سنتِ امتحان سے ہے۔ اِس سنتِ امتحان کا ایک پہلو وہ ہے جو فرد سے متعلق ہے، دوسرا وہ ہے جو قوم سے متعلق ہے۔ جس طرح افراد کو اُن کے انفرادی دائرے میں کوئی چیز دے کر اُنھیں جانچا جاتاہے، اُسی طرح قوموں کو باری باری اقتدار دیا جاتا ہے، تاکہ اُنھیں جانچا جائے(165: 6)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

استخلاف بمعنی زمینی اقتدار کا تعلق اگر لازماً ایمان اور عملِ صالح سے ہو، تو تمام نبیوں کو زمینی اقتدار حاصل ہونا چاہئے تھا، جب کہ معلوم ہے کہ پچھلے نبیوں میں سے صرف دو نبیوں کو زمینی اقتدار ملا، یعنی حضرت داؤد اور حضرت سلیمان۔

اِسی طرح تمکین سے مراد تمکینِ سیاسی نہیں ہے، بلکہ تمکینِ دینی ہے، یعنی فرد کی نسبت سے دینی ذمے داری ادا کرنے کے لیے جو مواقع درکار ہیں، اُن مواقع کی پوری آزادی۔ فرد کی دینی ذمے داری بنیادی طورپر دو چیزیں ہیں—آزادانہ عبادت، پُرامن دعوت۔ سیاسی اقتدار کے محدود دائرہ میں اگر کوئی غیر مسلم حکمراں ہو، لیکن پُرامن دعوت اور آزادانہ عبادت کے معاملے میں اہلِ ایمان کو پورے مواقع حاصل ہوں تو کہا جائے گا کہ ایسے مقام پر اہلِ ایمان کو تمکین حاصل ہے— موجودہ زمانے میں تمام جمہوری ملکوں میں اہلِ ایمان کو پوری طرح یہ مواقع حاصل ہیں۔ اِس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانے کے جمہوری ملکوں میں وہ چیز عملاً حاصل ہے جس کو قرآن میں ’تمکین فی الارض‘ کہا گیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو مصرمیں تمکین (12: 21) عطا کی۔ یہ تمکین واضح طورپر غیر سیاسی تھی۔ خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ مصر میں حضرت یوسف کا معاصر غیر مسلم حکمراں بدستور تختِ اقتدار پر تھا اور ملک میں اُسی کا شاہی قانون (76: 12)رائج تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا تعلق صرف انتظامِ ملکی سے ہے، اُس کا براہِ راست طورپر نجاتِ آخرت سے کوئی تعلق نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content