روزے کا مقصد احساسِ شکر کو پیدا کرنا ہے۔ غذا آدمی کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ غذا شکر کا بہت بڑا آ ئٹم ہے۔ روزے میںآدمی کو غذا سے وقتی طورپر روک کر شکر کی نفسیات کو جگایا جاتاہے، تاکہ اِس تجربے کی بنا پر آدمی دوسری نعمتوں کے بارے میں بھی شکر کرنے والا بنے۔ ایک مہینے کا روزہ آدمی کے اوپر اِس لیے فرض کیا گیا ہے، تاکہ وہ سال کے بقیہ دنوں میں بھی خدا کا شاکر بنا رہے۔
انسان کے اندر یہ کمزوری ہے کہ اس کی نفسیات میں کسی کیفیت کا تسلسل باقی نہیں رہتا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ شکرِ خداوندی کی کیفیات میں زندگی گزارے۔ اِس لیے ہر سال کے ایک مہینے میں روزے کے ذریعے شکر کی کیفیت کو ری ایکٹویٹ (re-activate) کیا جاتا ہے، تاکہ آدمی کبھی شکر کی کیفیت سے خالی نہ ہونے پائے، وہ اِس دنیا میں رہتے ہوئے ہر تجربے کے بعد شکر کا رسپانس (response) دیتا رہے۔
دین کا خلاصہ اللہ سے تعلق ہے۔ اللہ سے تعلق قائم ہونے کے بعد انسان کے اندر اپنے مُنعم حقیقی کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اِسی اعتراف کا شرعی نام شکر ہے۔ جہاں شکر نہ ہو، یقینی طور پر وہاں دین بھی نہ ہوگا۔
روزہ اصلاً ایک انفرادی عبادت ہے، لیکن اس کو ایک مخصوص مہینے میں مقرر کیاگیا ہے۔ اس کا مقصد انفرادی عمل میں اجتماعی پہلو کو شامل کرنا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ روزے کے مہینے میں ایک اجتماعی فضا پیدا ہو۔ ہرجگہ کے لوگ یکساں طورپر ایک ہی عبادت میں مشغول ہوں اور ہر جگہ کے لوگ ایک ہی عبادت کا چرچا کریں، ہرجگہ کے لوگ اپنے تجربات میں دوسروں کو شریک کریں۔ روزہ اگر حقیقی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے تو اس کا انعام اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں، اس میں دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اضافہ ہوجاتاہے۔ یہ اضافہ اس اعتبار سے ہوتا ہے کہ کس صائم کا روزہ کیفیت کے اعتبار سے کتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے۔ عبادت کا اصول یہ ہے کہ — جتنی زیادہ کیفیت، اتنا زیادہ اجر۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔