← Al-Risala August 2008Al-Risala August 2008
سوال وجواب
Urdu · 5 min read
آج کل مسلمانوں کے درمیان ایک نیا ظاہرہ دیکھنے میںآرہا ہے۔ وہ یہ کہ مسلم رہ نما اور مسلم لیڈر بڑے پیمانے پر امن کی باتیں کررہے ہیں۔ وہ جگہ جگہ دہشت گردی مخالف کانفرنسیں منعقد کررہے ہیں، اور میڈیا میں یہ بیان دے رہے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے، دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ اِس معاملے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے۔ کیا آپ اِس کو کوئی صحت مند ظاہرہ سمجھتے ہیں (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ صحیح ہے کہ آج کل دہشت گردی (terrorism) کے خلاف لکھنے اور بولنے کا فیشن ہوگیا ہے۔ اِس موضوع پر مختلف مقامات پر سیمنار اور کانفرنسیں ہوررہی ہیں، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔ اِسی قسم کی ایک بڑی کانفرنس 30مئی 2008 کو نئی دہلی میں ہوئی۔ میڈیا میں اس کو کافی کور (cover) کیا گیا ۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (یکم جون 2008 )میں اِس کانفرنس کی رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے:
Fatwa Against Terrorism
دہشت گردی کے خلاف اِس زمانے میں تقریر و تحریر کی جو دھوم ہے، وہ میرے نزدیک سر تاسر بے فائدہ ہے۔ اِس لیے کہ یہ تمام لوگ ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف بے تکان بولتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ دہشت گردی ہے کیا۔ اِن میں سے کسی نے آج تک دہشت گردی کی تعریف (definition) نہیں دی۔ایسی حالت میں ان کی ساری چیخ وپکار بے معنی ہے۔ اِس لیے کہ وہ لوگ جو مختلف مقامات پر تشدد اور خود کش بم باری (suicide bombing) کررہے ہیں، وہ خود اپنے آپ کو دہشت گرد نہیں کہتے، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ — ہم آزادیٔ وطن کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہم انسانی حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہم انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں، وغیرہ۔ اِس لیے وہ یہ سمجھتے ہیںکہ دہشت گردوں کے خلاف جو کچھ کہاجارہا ہے، وہ ان کے اوپر منطبق (apply) نہیں ہوتا۔
پوری دنیا میں، میں واحد شخص ہوں جس نے بتایا کہ دہشت گردی(terrorism) کیا ہے۔ میں نے بتایا کہ غیرحکومتی تنظیموں (NGOs) کا ہتھیار اٹھانا، یہی دہشت گردی ہے۔ اسلامی شریعت کے اصول کی روشنی میں دہشت گردی کی تعریف (definition) یہ ہے — حکومت کے علاوہ کسی غیرحکومتی تنظیم کا ہتھیار اٹھانا:
Use of arms by agencies, other than state.
غیر حکومتی افراد، یا تنظیموں کو صرف پُر امن جدوجہد کا حق ہے، مسلّح جدوجہد کا اُن کو حق نہیں۔
اِس قسم کے مقررین اور محررین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پُرجوش طورپر یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں، مگر یہ ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ اِس معاملے میں لوگوں کا کہنا یہ نہیں ہے کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ کچھ مسلمان، اسلام کے نام پر وہ متشددانہ فعل کررہے ہیں جس کو موجودہ زمانے میں دہشت گردی کہاجاتا ہے۔ اِس لیے اِس معاملے میں اصل کام یہ ہے کہ اِس قسم کے مسلمانوں کو کنڈم (condemn) کیاجائے۔ کھلے طورپر یہ بتایا جائے کہ یہ لوگ اپنے متشددانہ عمل کے لیے غلط طورپر اسلام کا نام لے رہے ہیں۔ اِس معاملے میںاصل کام، اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ہے، نہ کہ مسلمانوں کے بارے میں خاموش رہ کر یہ کہاجائے کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں۔ موجودہ صورت میں اِس قسم کے بیان کا کوئی فائدہ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر کوئی ناخوش گوار صورتِ حال پائی جائے، تو ایسے وقت میں عمل کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، پُرامن جدوجہد اور دوسرے، مسلّح جدوجہد۔ اسلامی شریعت کے مطابق، مسلح جدوجہد کا حق صرف قائم شدہ حکومت کو ہے، اور وہ بھی اُس وقت ہے، جب کہ کسی طاقت نے اُس پر حملہ کردیا ہو۔ جہاں تک غیر حکومتی عوام کی بات ہے، ان کے لیے ہتھیار اٹھانا کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ عوام کے لیے صرف پُر امن جدوجہد ہے، نہ کہ مسلح جدوجہد۔
ہمارے یہاں تبلیغی جماعت کے بعض حضرات ہر کسی پر یہ فتویٰ لگاتے رہـتے ہیں کہ اُس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں کہ اِس طرح کے معاملات میں اسلام کا کیا حکم ہے (معاذالدین، بھاگل پور)۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ ایک عام مزاج ہے کہ وہ مسجد کے امام پر ایک شخصی الزام لگائیں گے اور پھر یہ تحریک چلائیں گے کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں، اِس لیے اس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا امام مقرر کیا جائے۔ اِس قسم کی تحریک بلاشبہہ ایک گناہ کا کام ہے۔ یہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ حدیث میں اِس قسم کے عمل کو صراحت کے ساتھ منع کیاگیا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سنن ابی داؤد میں ایک حدیث ِ رسول اِن الفاظ میںآئی ہے: الصلاۃ المکتوبۃ واجبۃٌ خَلْف کلّ مسلم، بَرًّا کان أو فاجراً وإن عمل الکبائر (باب إمامۃ البَرّ والفاجر)یعنی فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد، خواہ اس سے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوا ہو۔
hadithQuotes a hadith
اِس حدیثِ رسول کا خطاب اصلاً امام کی طرف نہیں ہے، بلکہ مقتدی کی طرف ہے۔ اِس کا مطب یہ ہے کہ کوئی مقتدی اگر یہ سمجھتا ہوکہ امام کے اندر فلاں فلاں خرابی پائی جاتی ہے، تو اِس کے باوجود اس کو امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر آدمی خود اپنی نماز پڑھتا ہے، نہ کہ امام کی نماز۔ مسجد میںامام کا تقرر صرف تنظیمِ جماعت کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ صحتِ نماز کے لیے۔ جہاںتک صحتِ نماز کا معاملہ ہے، اس کا تعلق ہر آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ اِس معاملے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ مسجد میں ہر وہ فعل قابلِ ترک ہے جو مسجد کے عبادتی ماحول کو بگاڑے۔ کوئی بھی ایسا فعل جس سے مسجد کا عبادتی ماحول بگڑے، وہ شریعت کے نزدیک فتنہ ہے، اور فتنہ کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بالفرض اگر کسی امام کے اندر کوئی برائی پائی جاتی ہو، تو مقتدی کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ اس کے حق میں دعا کرے۔ اور اگر وہ دعا سے زیادہ کرنا چاہتا ہے، تو وہ صرف یہ کرسکتا ہے کہ تنہائی میںامام سے ملے اورخیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو سمجھانے کی کوشش کرے۔