Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2020
Al-Risala April 2020

جدید دور کی ایک دین

Urdu · 2 min read

قدیم زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا تھا کہ بیٹے کے ذریعے تسلسل کو قائم رکھنا۔ مثلا ً سردار کا بیٹا سردار، بادشاہ کا بیٹا بادشاہ، خلیفہ کا بیٹا خلیفہ، اسی طرح عہدیدار کا بیٹا عہدیدار، وغیرہ۔ یہ طریقہ برابر قائم رہا۔ اس طرح نظام کا عملی ڈھانچہ تو قائم رہا، لیکن اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ غیر اہل (incompetent) افراد عہدوں پر قابض ہونے لگے۔ مغرب نے اس کے بدل کے طور پر ادارے (institution) کا طریقہ رائج کیا، اور ادارے میں یہ اصول رکھا کہ الیکشن کے ذریعے عہدیدار منتخب کیے جاتے رہیں۔ اس طریقے میں معیار کو باقی رکھنے کی تدبیر وہ اختیار کی گئی، جس کو کوالیٹی ایجوکیشن (quality education) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایجوکیشن کے ذریعے بہتر افراد کا عہدے تک پہنچنا۔

غیر ترقی یافتہ ملکوں میں بھی اس طریقے کو اپنایا گیا ہے، لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ غیر ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ بھی بظاہر کوالیٹی ایجوکیشن کا نام لیتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ وہ رعایت اور ریزرویشن کا طریقہ بھی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ چنانچہ رعایت اور ریزرویشن کے طریقے نے ان ملکوں میں کوالیٹی ایجوکیشن کا عملاً خاتمہ کردیا ہے۔

کوالیٹی ایجوکیشن کی کامیابی کی واحد شرط یہ ہے کہ پوری اصول پسندی کے تحت اسٹرکٹ کامپٹیشن (strict competition) کا اصول اختیار کیا جائے۔ اسٹرکٹ کامپٹیشن کا مطلب ہے— مقابلے کا سامنا کرو، یا ختم ہوجاؤ (compete or perish)۔ اس اصول کو سختی سے اختیار کیے بغیر کوالیٹی ایجوکیشن کا کوئی وجود نہیں۔

اسٹرکٹ کا مپٹیشن کو سختی سے رائج کیا جائے ،تو یہ ہوگا کہ صرف اہل لوگ منتخب ہوکر اوپر آئیں گے، اور جو نااہل افراد ہیں، وہ خود سسٹم کے تحت اپنے آپ چھٹ کر الگ ہوجائیں گے۔ مگر الگ ہونا، سادہ طور پر کنارے لگنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے ایسے افراد کے لیے دوسرے چائس کو اویل کرنے کا موقع دینا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.