Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala April 2018
Al-Risala April 2018

مشکل حالات

Urdu · 1 min read

فطرت کا ایک اصول قرآن میں ان الفاظ میں بیا ن کیا گیاہے: سَیَجْعَلُ اللَّہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُسْرًا (65:7)۔ یعنی اللہ عُسر کے بعد عنقریب یسر پیدا کردے گا۔ عسر کا مطلب ہے مشکل (difficulty)، اور یُسر کا مطلب ہے آسانی (ease)۔قرآن کی یہ آیت طلاق کے حکم کے دوران آئی ہے۔ لیکن یہ فطرت کا اصول ہے، اور اس اعتبار سے اس اصول کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس اصول کے اندر ایک حکمت چھپی ہوئی ہے۔ جب آدمی کے اوپر مشکل حالات آتے ہیں، تو اس کے ذہن میں ایک دباؤ (pressure) پیدا ہوتا ہے۔ اس دباؤ کے تحت وہ زیادہ سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ معاملے کے نئے نئے پہلو اس کی سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ مشکل سے پہلے اگر وہ ایک غیر تخلیقی ذہن تھا، تو مشکل کے بعد وہ ایک تخلیقی ذہن (creative mind) بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ زیادہ اہلیت کے ساتھ صورت حال کا سامنا کرے۔وہ زیادہ بہتر طور پر مواقع (opportunities) کو دریافت کرسکے۔

اس اصول کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ گھر کی زندگی، سماج کی زندگی، اور وسیع تر معنوں میں قومی اور بین اقوامی زندگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکل کی حیثیت انسانی زندگی میں معلّم کی ہے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ مشکل انسان کو انسان بناتی ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

It is not ease but effort, not facility but difficulty that makes men.

فطرت کا نظام اس طرح بنا ہے کہ انسان کو کبھی اپنی مرضی کے مطابق بالکل آسان حالات نہ ملیں ، اس کو مشکلات کی جھاڑیوں سے گزرنا پڑے۔ یہ صورت حال انسان کی شخصیت کی تعمیر کرنے کے لیے ہے۔ یہ صورتِ حال ایک انسان کو غیر پختہ شخصیت (immature personality)کے بجائے پختہ شخصیت (mature personality)بنا دیتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content