Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala April 2018
Al-Risala April 2018

مسجد کا مسئلہ

Urdu · 5 min read

عام طو رپر یہ سمجھا جاتاہے کہ مسجد کی تعمیر ایک ابدی تعمیر ہے۔ جس مقام پر ایک بار مسجد بن جائے ، وہاں وہ مسجد ہمیشہ قائم رہے گی، اُس کا وہا ں سے ہٹانا جائز نہیں ۔ مسجد کے بارے میں یہ مسئلہ اسلام کے بعد کے زمانے میں عباسی دور میں کچھ فقہا نے وضع کیا۔ لیکن قرآن یا حدیث میں مسجد کے بارے میں ایسا کوئی مسئلہ ہرگز موجود نہیں۔موجودہ زمانے کے بعض علما نے اس مسئلہ کو اجتہادی مسئلہ بتایا ہے۔ یعنی ضرورت کے تحت مسجد کو اس کے سابق مقام سے ہٹایا جاسکتا ہے، او ر اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے۔ حنبلی فقہ واضح طور پر اس مسئلے کی تائید کرتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مشہور حنبلی عالم ابن قدامہ (1147-1223ء) نے اپنی کتاب المغنی میں لکھا ہے : ولو جاز جعل أسفل المسجد سقایة وحوانیت لہذہ الحاجة، لجاز تخریب المسجد وجعلہ سقایة وحوانیت ویجعل بدلہ مسجدا فی موضع آخر(المغنی لابن قدامہ، 6/30)۔ یعنی اگر ضرورت کے تحت مسجد کے نچلے حصہ کو سقایہ(پانی کا حوض) اور دکان بنانا جائز ہے، تو مسجد کو ڈھانا اور اس کو سقایہ اور دکان بنانا بھی جائز ہے، اور اس کے بدلے میں دوسری جگہ ایک مسجد بنائی جائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام میں مسجد کی عمارت کا مسئلہ ضرورت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ تقدس کی بنیاد پر۔ جدید دورمیں جب سٹی پلاننگ کا زمانہ آیا تو مسلم شہروں مثلاً مکہ ،مدینہ ،وغیرہ، میں بڑی تعداد میں قدیم مسجدیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل (relocate)کی گئیں۔ کیوں کہ یہ قدیم مسجدیں سٹی پلاننگ (city planning) میں رکاوٹ ثابت ہورہی تھیں۔ مثلاً اگر ایک مسجد بلال کے نام پر کہیں واقع تھی، تو اسی نام سے دوسری مسجد پہلے مقام سے ہٹاکر دوسری جگہ پر بنا دی گئی، اور مسجد کے مقام پر شہری منصوبہ کے مطابق نئی تعمیر کی گئی۔مسجد کی عمارت بلاشبہ ایک قابل احترام عمارت ہے۔ لیکن ضرورت کے تحت کسی مسجد کی عمارت کے مقام کو تبدیل کرنا بلاشبہ جائز ہے۔

آج کا نوجوان

پاکستان کے مشہور تعلیمی ادارہ ، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز(LUMS) میں’’یک روزہ بک فیر‘‘کا پروگرام تھا۔ ہمارے ایک ساتھی، مسٹر طارق بدر نے وہاں بک اسٹال لگایا۔ یہ بک اسٹال بہت زیادہ کامیاب رہا۔مسٹر طارق بدر نے بک فیر کے اختتام پر اپنا تاثر ان الفاظ میں لکھا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

LUMS Book Fair is going great. Students are taking copies of the English Quran and giving such comments: “I was looking for it”, ـ“I need it” and “Can I have one for my friend”. An important learning I had was that today we need to work among the youth, as they are pure seekers and want to understand the true religion. Unfortunately, all other Islamic literature does not address their minds. How our stock of 350 English Qurans finished was a great surprise and students’ excitement after receiving their free copies was unbelievable. Another book which was sold in good amount was Leading A Spiritual Life. Let’s pray that we spread this message to all universities here. We are thankful for Affan, who is doing PhD from LUMS and is part of our team.This was his initiative.

برٹش دور میں جب غیر منقسم انڈیا میں ماڈرن ایجوکیشن کا آغاز ہوا تو تقریباً تمام مذہبی طبقہ، اور اسلامی تحریکیں ان کے خلاف ہو گئیں۔ اکبر الہ آبادی نے اس تعلیم کے بارے میں کہا تھا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

سید ابوالاعلی مودودی نے اس زمانے میں کالج اور یونیورسٹی کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ تعلیم گاہیں نہیں ہیں، بلکہ وہ قتل گاہیں ہیں۔ یہی حال تقریباً تمام ان لوگوں کا تھا، جو اسلام پسند کہے جاتے تھے، اور احیائے اسلام کا جھنڈا بلند کیے ہوئے تھے۔ مگر تجربے نے بتایا کہ یہ تعلیم ہمارے نوجوانوں کے لیے ڈی کنڈیشننگ کا ذریعہ تھی۔ اس تعلیمی نظام میں جو لوگ پڑھ کر نکلے، وہ ’’قتل ‘‘ نہیں ہوئے، بلکہ جدید تعلیم نے ان کے اندر نئی اسلامی بیداری پیدا کردی— وقت کی ضرورت یہ ہے کہ سیکولر تعلیم یافتہ لوگوں پر فتوی لگانے کے بجائے، ان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا لٹریچر تیا ر کیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خوف کی نفسیات

بیسویں صدی عیسوی مسلم دنیا کے لیے تحریکوں کی صدی (the century of milli activities) ہے۔ اس پوری صدی کے اندر مسلم دنیا کے ہر حصے میں کوئی نہ کوئی بڑا مسلم رہنما سرگرم عمل نظر آتا ہے۔ ان تحریکوں کا خلاصہ کیا جائے تو سب کا قدر مشترک ایک ہوگا۔ وہ ہے خوف کی نفسیات۔ ہر مسلم رہنما کسی نہ کسی دشمن کے خوف کو لے کر مسلمانوں کو اس کے خلاف عمل پر ابھاررہا تھا۔کہیں نو آبادیاتی طاقتوں کے خلاف، کہیں اسرائیل کے خلاف، کہیں ہندو اکثریت کے خلاف، کہیں ظالم قوم کے خلاف، کہیں مغربی طاقتوں کے خلاف، کہیں صہیونیت کے خلاف، وغیرہ۔

یہ ایک عام تجربہ ہے کہ لوگوں کو محبت انسانی کے اوپر اٹھایا جائے تو کبھی ایسی تحریک کو عوامی تائید حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، جو لیڈر لوگوں کو خوف کی نفسیات پر ابھارے، اس کے جھنڈے کے نیچے بےشمار لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہوجاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اندر اپنے خالق و منعم کا خوف پیدائشی طور پر موجود ہے۔ انسان فطری طور پر اس احساس میں جیتا ہے کہ جس خالق نے ہم کو تمام نعمتیں دی ہیں، اگر وہ ان نعمتوں کو چھین لے تو ہمارا کیا انجام ہوگا۔ یہ نفسیات انسان کے اندر خالق کی نسبت سے رکھی گئی ہے، تاکہ ہر انسان ذمہ دار انسان بن کر دنیا میں رہے۔ مگر غیردانش مند لیڈر اپنے انٹرسٹ کے لیے اس نفسیات کو مفروضہ انسانی دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری انسانی تاریخ ایک عظیم نقصان سے دو چار ہورہی ہے۔ خوف کی نفسیات جو انسان کے اندر خدا کی نسبت سے رکھی گئی تھی، وہ انسان کی نسبت سے استعمال ہونے لگی۔ جس نفسیات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان کے اندر خدا رخی مزاج بنے، وہ انسان کے خلاف منفی مزاج پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ انسان خالق سے ڈرے تو اس کے نتیجے میں اس کے اندر یہ نفسیات جاگتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان درست آدمی بنائے۔ اس کے برعکس، جب یہ نفسیات انسان کی نسبت سے استعمال ہونے لگے تو ہر آدمی دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ کر اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content