Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2018
Al-Risala April 2018

اجتہاد کیا ہے

Urdu · 2 min read

اجتہاد کا لفظی مطلب ہےپوری کوشش کرنا (to strive)۔ اجتہاد کا لفظ حدیث کی دو روایتوں میں آیا ہے۔ان دونوں حدیثوں میں اجتہاد کا مطلب ہے، کسی معاملہ میں امر شرعی معلوم کرنے کی کوشش کرنا۔ قرآن میں اس کے ہم معنی لفظ استنباط (النساء83:)آیا ہے۔ اس کا مطلب ہے، نتیجہ اخذ کرنا (to infer)۔

اجتہاد یا استنباط کی کوئی لازمی شرط (condition)نہیں ہے۔ ہر آدمی اجتہاد اور استنباط کا عمل کرسکتا ہے۔ اس کی شرط صرف یہ ہے کہ کسی اجتہاد یا استنباط کو مطلق نہ سمجھا جائے، بلکہ اس کو نظر ثانی کا موضوع (subject to re-examination) سمجھا جائے۔ حدیث میں آیا ہے : إذا حکم الحاکم فاجتہد ثم أصاب فلہ أجران، وإذا حکم فاجتہد ثم أخطأ فلہ أجر(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352)۔ یعنی جب کوئی حاکم فیصلہ دے اور وہ اجتہاد کرے اور اس کا وہ حکم درست ہو تو اس کو دوہرا اجر ملے گااور اگر اس نے کوئی ایسا حکم دیا جس میں اس نے اجتہاد کیا لیکن وہ خطا کر گیا تو اس کو ایک اجر ملے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا اجتہاد مطلق اجتہاد نہیں ہے۔ ہر شخص کا اجتہاد نظر ثانی کا موضوع (subject to re-examination) ہے۔اجتہاد کے حق ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد پر کسی کے اجتہاد کو جانچا نہیں جائے گا۔ بلکہ اس اعتبار سے جانچا جائے گا کہ بحث و تحقیق کے بعد اس کا اجتہاد درست ثابت ہوا ہےیا وہ ایک غلط اجتہاد تھا۔ اجتہادی خطا پر ایک اجر کا وعدہ ، یہ معنی رکھتا ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کسی حال میں بند نہیں۔ بلکہ جو دروازہ بند ہے، وہ صرف یہ کہ کسی کے اجتہاد کو تنقید سے بالاتر سمجھ لیا جائے، اور یہ عقیدہ بنا لیا جائے کہ فلاں شخص امام برحق یا مجتہد مطلق ہے، اور اس کے اجتہاد کو کسی مزید تحقیق کے بغیر تسلیم کرنا چاہیے۔ گویا کہ خود اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہے، بلکہ نبی کے سوا کسی اور کو مطلق شارع سمجھنے کا دروازہ بند ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content