← Al-Risala April 2016Al-Risala April 2016
خبرنامہ اسلامی مرکز242—
Urdu · 7 min read
l سی پی ایس (کولکاتہ) ٹیم کی ممبر مس شبینہ علی نے آئس اسکیٹنگ رنک اکزبیشن کے شرکاء اور زائرین سے انٹرایکشن کیا اور ان کو قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر فراہم کیا۔ اکزبیشن میں شریک ہونے والی ایک ٹیچر مس رِچا نرولا نے قرآن کی دو کاپیاں حاصل کیں، ایک اپنے لیے اور دوسری اپنے شاگردوں کے لیے تاکہ وہ قرآن کی تعلیم ان کے اندر عام کرسکیں۔یہ نمائش 1-3 دسمبر 2016 کے درمیان کولکاتامیں منعقد ہوئی تھی۔
l 21-23 ستمبر2015 کو بنگلورکے سی ای او سینٹر میں ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں محترمہ فاطمہ سارہ (سنٹر فار پیس، بنگلور) نےڈاکٹر فریدہ خانم کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک پیپر پڑھا۔ اس کا عنوان تھا :
'Religious Freedom and Conversion in India Today—The Islamic Perspective'
اس کے بعد سوال وجواب کا سیشن ہوا۔ پروگرام کے بعد تمام حاضرین کو انگلش ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر کا ایک ایک سیٹ دیا گیا۔ SAIACS Consultation کے تحت اس قسم کا یہ چوتھا پروگرام تھا۔ انگلش میگزین اسپرٹ آف اسلام فروری 2016 میں مذکورہ پیپر اور سوال و جواب کے خلاصہ کو پڑھا جاسکتا ہے۔
l 4 دسمبر سے 15 دسمبر 2015 تک پٹنہ کے گاندھی میدان میں پٹنہ بک فیئر منعقد ہوا۔اس بک فیئر میں گڈورڈ بکس نے شرکت کی۔ اسٹال کا انتظام سنٹر فار پیس اینڈ آبجکٹیو اسٹڈیز، بہار وجھارکھنڈ کے ممبران نے کیا تھا۔ان حضرات نے بک فیئر میں آنے والے لوگوں سے انٹرایکشن کیا اوران کے درمیان دعوہ لٹریچر تقسیم کیا۔ گڈورڈ بکس کی جانب سے مولانا محمد یعقوب عمری نے اس بک فیر میںشرکت کی ۔
l 11 دسمبر 2015 کو فرانس کے نوجوانوں پر مشتمل ایک انٹرفیتھ ٹور گروپ نے صدر اسلامی مرکز کی ملاقات کی اور انٹرفیتھ اور بقائے باہم (coexistence) کے موضوع پرصدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔انٹرویو کے بعد تمام لوگوں کوانگلش ترجمہ قرآن اور وہاٹ از اسلام ( فرنچ) اور دوسرے دعوتی لٹریچر دیئے گئے۔ تمام لوگوں نے اس کو خوشی اور شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
l 13 دسمبر 2015 کو جناب ایس ایف صدیقی نے اورنگ آباد کے ایک ہاسپٹل میں صدر اسلامی مرکز کا قرآن ترجمہ (مراٹھی) لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ ہاسپٹل کے ایک ڈاکٹر نے اپنے دلی تاثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں قرآن کے ایک اچھے ترجمے کی تلاش میں تھا۔ میں نے مولانا کے بارے میں سنا تھا لیکن ان کو کبھی پڑھا نہیں۔ میں قرآن کو اپنے خاندان کے ممبروں کے ساتھ پڑھوںگا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔
l یوپی کے گورنر جناب رام نائک صاحب نے صدر اسلامی مرکز کی نئی انگریزی کتاب قرآنک وزڈم کا راج بھون میں اجراء کیا۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے زیر سرپرستی امن و شانتی اور روحانیت کے لیے ہورہی کوششوں پر اپنائیت اور خوشی کا اظہار کیا ۔سی پی ایس ، لکھنؤ اور سہارن پور کے ممبران جیسے پنڈت ڈاکٹر ہرش وردھن شرما، جج مس الپنا تلوار،مسٹر انیس خان، مسٹر دانش خان اور حافظ محمد سلمان نوری ، وغیرہ راج بھون (لکھنؤ) میں ہونے والے اس پروگرام میں شریک ہوئے تھے۔پروگرام کے بعد گورنر موصوف کو تذکیر القرآن (انگلش) کے ساتھ دوسرے دعوتی لٹریچر کا ایک سیٹ بطور تحفہ دیا گیا۔اس کے علاوہ راج بھون کے تمام اسٹاف کو ہندی قرآن پیش کیاگیا، جسے تمام لوگوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ڈاکٹر محمد اسلم خان نے گورنر موصوف کو سی پی ایس سہارن پور کےزیر اہتمام ہونے والے اسپریچول پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ (ڈاکٹر محمد اسلم خان ، سہارن پور)
l 22دسمبر 2015 کو مز سونیا سرکار (اسسٹنٹ اڈیٹر، دی ٹیلی گراف) نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا، انتہا پسندی ;کو روکنے میں سوشل میڈیا کا استعمال ۔ انٹرویو کے بعد اڈیٹر موصوفہ نے سی پی ایس ممبروں سے قرآن سے متعلق مختلف جانکاری حاصل کی، جس میں سب سے اہم جہاد اور پیس تھا۔ انٹرویو کے بعد انٹرویور کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
l نئے سال 2016کے موقع پر ہندستان ٹائمس نے پنجاب ہوٹل میں ایک انعامی مقابلہ کا انعقاد کیا تھا۔اس میں سہارن پورکے ڈی ایم مسٹر پون کمار ، کمشنر سٹی مسٹر نیرج کمار اور این ایم سی پرنسپل ڈاکٹر اسلم خان نے مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کی۔ اس پروگرام میں سی پی ایس ٹیم کے ممبران نے شرکت کی اور تمام شرکاء کو سالِ نو کے تحفے کے طور پر انگلش ترجمہ قرآن اور اسپرٹ آف اسلام میگزین دیا۔ ہندستان ٹائمس کے صدر مسٹر گردیال نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
l 16 دسمبر 2015کو اسپیکنگ ٹری (ٹائمس آف انڈیا کے آن لائن و آف لائن اسپریچول اخبار ) کی ایڈیٹوریل ٹیم نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد تھا ، کرسمس کی مناسبت سے شائع ہونے والے اخبار کے اسپیشل نمبر میں صدر اسلامی مرکز سےگیسٹ اداریہ تحریر کروانا۔ چناں چہ20 دسمبر 2015کے شمارہ میں یہ اداریہ شائع ہوا، اور کافی پسند کیا گیا۔اس کا ٹائٹل تھا'Love is the best formula': ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر فریدہ خانم، اور ڈاکٹر ثانی اثنین خان کے مضامین بھی اس شمارہ میں شائع ہوئے۔ ان تمام مضامین کو اسپیکنگ ٹری کے ویب سائٹ کے علاوہ سی پی ایس انٹر نیشنل کی ویب سائٹ پر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔
l جمشید پور سے جناب عیاض احمد صاحب لکھتے ہیں کہ آج گائتری پریوار (جمشید پور)کے ٹرسٹی جناب تاراچند اگروال صاحب سے ملاقات ہوئی انھوں نے ہمارے مشن کے بارے میں جاننا چاہا ۔ان کی خواہش پر دعوتی لٹریچر ان کو دیا گیا۔ قرآن کا ہندی ترجمہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے اس کی بہت دنوں سے ضرورت تھی ۔
l 8 جنوری 2016 کو صدر اسلامی مرکز نے جرمنی کے ایک وفد سے انڈیا انٹرنیشنل سنٹر، نئی دہلی میں خطاب کیا۔ یہ پروگرام سی پی ایس انٹرنیشنل نے جرمن وفد کے لیے منعقد کیا تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے ’’اسلام میں امن کا تصور‘‘ کے موضوع پرخطاب کیا۔ خطاب کے بعد سوال و جواب کا سیشن تھا۔ اس کے علاوہ سی پی ایس کے دوسرے ممبران مس ماریہ خان اور مس صوفیہ خان نے’’آئی ایس آئی ایس کی حقیقت‘‘ اور’’جہاد، اسلام میں‘‘کے موضوع پر بالترتیب خطاب کیا۔ خطاب کے بعد وفد کے تمام شرکاء کو دوسرے دعوتی لٹریچر کے ساتھ جرمن قرآن پیش کیا گیا۔ تمام لوگوں نے خوشی اور شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا۔
l ذیل میں ان تبدیلیوں کا ذکر کیا جارہا ہے ،جو الرسالہ مشن کے ذریعے لوگوں میں آئی ہیں:
السلام علیکم، شکریہ مولاناصاحب! میں پچھلے بارہ تیرہ برس سے الرسالہ اور دوسری کتابوں سے استفادہ کر رہا ہوں. آپ کی تحریریں اور آپ کی آراء نےمتعددمواقع پر اورمختلف مسائل میں میری رہنما\ئی کی ہے.جزاک اللہ احسن الجزاء.(محمد نوشادعالم قاسمی)
1. I read the book Quranic Wisdom by Maulana Wahiduddin Khan. In the book, there is an article called Focused Thinking. This article has had a great impact on me and now I am a changed person.(Rustam Ali)
2. If I were asked what was the greatest achievement in my life, I would certainly say you and your literature, for it is you who have helped me realize God. (Imteyaz Ahmad)
3. Maulana's new book The Age of Peace was reviewed by Somali Chakrabarti in www.newageislam.com, 26 December 2015. Here are some excerpts from the review: 'The Age of Peace not only upholds the need for peace, it also provides the rationale for establishing peace, and outlines the general principles based on which it is possible to establish peace in the society. Backed by innumerable examples from different parts of the world, from the past centuries to the modern age, the author advocates the use of non-confrontational method, peaceful activism, and spreading the message of peace through education and awareness. I had received a copy of this book from a blogger friend and after going through it, I found that it is a very relevant book for all particularly the youth in the turbulent times that we are living in.