Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala April 2016
Al-Risala April 2016

اسلامی تاریخ کا فکری مطالعہ

Urdu · 2 min read

Interpretation of Islamic History

اسلام کانظام صرف تیس سال قائم رہا، اس کے بعد عملامسلمانوں کے درمیان ملوکیت کا نظام قائم ہوگیا— اسلام کے بارے میں تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ عام تصور ہے۔ لیکن یہ تصور پوری طرح غلط فہمی پر مبنی ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام اپنی پوری چودہ سو سالہ تاریخ میں مسلسل طور پر اپنی اصل حالت پر قائم رہا ہے اور آج بھی قائم ہے۔تاریخ میں بظاہر جو تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں، وہ اسلام کے اضافی حصہ (relative part)میںہیں، نہ کہ اسلام کے اصل حصہ (real part) میں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی إِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ (58:21) ۔یعنی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بے شک اللہ قوت والا، زبردست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ جس طرح انسانی تاریخ پراللہ کا غلبہ مسلسل طور پر قائم ہے، اسی طرح پیغمبروں کا مشن بھی انسانی تاریخ پر ہمیشہ اور ہر حال میں غالب رہے گا۔ یہ با ت ایک حدیث رسول حسب روایت ابن عباس اس طرح بیان ہوئی ہے: الإسلام یعلو ولا یعلىٰ علیہ (شرح معانی الآثار، حدیث نمبر5267) یعنی اسلام ہمیشہ غالب رہے گا، وہ کبھی مغلوب نہ ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن اور حدیث کے ان بیانات کے مطابق ، اسلامی تاریخ کی وہی تعبیر صحیح ہے جس میں مساوی طور پر تسلسل پایا جائے۔ جو تعبیر اسلامی تاریخ کو خلافت اور ملوکیت کے دو غیر مساوی ادوار میں تقسیم کریں، وہ بداہۃً قابل رد ہیں۔

Prima facie it stands rejected.

انسانی تاریخ کا سفر اجرامِ سماوی (astronomical body) کے سفر کی مانند نہیں ہے۔ اجرامِ سماوی کا سفر ہمیشہ یکساں رفتار (uniform speed) کے ساتھ چلتا ہے۔ لیکن انسانی تاریخ کا سفر ہمیشہ غیر ہموار رفتار سے جاری ہوتا ہے۔ ایسا فطرت کے قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ کے بارے میں یہی درست ہے کہ وہ غیر ہموار انداز میں سفر کرے۔ اگر انسانی تاریخ اجرامِ سماوی کی مانند ہموار انداز میں سفر کرنے لگے تو انسانوں کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking)کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اور خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، یہ کوئی مطلوب حالت نہیں۔

تاریخ خواہ بظاہر غیرہموار انداز میں سفر کرے، لیکن خدا تاریخ کو مسلسل طور پر مینج (manage) کر رہاہے۔ اس خدائی انتظام کی بنا پر تاریخ میں ہمیشہ یہ صورتِ حال قائم رہتی ہے کہ متغیر حالات کے درمیان ہمیشہ ایک غیر متغیر حکمت مسلسل طور پر موجود رہتی ہے۔ متغیرحالات کے درمیان اس غیر متغیر حکمت کو دریافت کرنے کا ہی دوسرا نام اسلامی تاریخ کی توجیہہ (interpretation)ہے۔

زیر نظر کتاب کا مقصد یہی ہے۔ یعنی اسلام کی تاریخ کی حکیمانہ توجیہہ دریافت کرنا ۔ اس دریافت میں اہل ایمان کے لیے یقین کا سرمایہ ہے، اور اس میں عام اہل علم کے لیے اسلامی تاریخ کے مطالعے کی صحیح بنیاد ہے۔

نئی دہلی، 16 دسمبر 2015

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content